Get Adobe Flash player

انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے مسلسل مطالبے پر حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لئے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اصلاحات کے عمل کو مکمل کیاجاسکے اس ضمن میں گزشتہ روز جو پیش رفت سامنے آئی اس کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سینٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر رضا ربانی سے رابطہ کر کے انہیں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی خواہش سے آگاہ کیاہے بتایاگیاہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں نے اس امر پر اتفاق کیاہے کہ آئینی اصلاحات کمیٹی کی طرز پر انتخابی اصلاحات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی قائم کی جائے اور اس سلسلے میں دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیاجائے حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ خصوصی کمیٹی کی طرف سے انتخابی اصلاحات کا پیکج تیار کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا ادھر وزیراعظم کی طرف سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کو پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے خطوط بھی لکھے گئے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انتخابی اصلاحات صرف تحریک انصاف ہی کا مطالبہ نہ تھا بلکہ پیپلز پارٹی سمیت بعض دیگر جماعتیں بھی ان کا مطالبہ کر رہی تھیں حکومت نے اچھا فیصلہ کیا کہ اس نے حزب اختلاف کے اس جائز مطالبے کو پورا کرنے کے سلسلے میں مطلوبہ اقدامات کی طرف توجہ دی ہے ہر الیکشن کے دوران بعض ایسی خامیاں ضرور سامنے آتی ہیں جنھیں دور کرنے کے لئے مطلوبہ قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخابات کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لئے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ ان خامیوں کی نشاندہی ہمیشہ حزب اختلاف کی طرف سے ہوتی ہے جبکہ اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو جس نے حکومت سنبھالنی ہے یہ خامیاں عام طور پر نظر نہیں آتیں اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سال کے عام انتخابات کے موقع پر بھی مختلف جماعتوں کی طرف سے بعض خامیوں کی نشاندہی کی گئی چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لئے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی تمام خامیوں کو دور کرنے اور انتخابی عمل کو شفاف اور فول پروف بنانے کے لئے اقدامات کرے ہم یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کا تسلسل جاری رہناچاہیے اور پھر الیکشن کے بعد اٹھنے والے سوالات اور اعتراضات کی روشنی میں اصلاحات پر نظرثانی کی جانی چاہیے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی جتناجلد قائم کی جائے اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپنا کام شروع کر دے اتنا ہی بہتر ہوگا کم ازکم اس حوالے سے سیاست میں پائی جانے والی کشیدگی تو ختم ہوگی۔