دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومتوں کو بھی متحرک کیاجائے

وزیراعظم محمد نوازشریف کی صدارت میں منعقدہ اعلی سطح کے اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن پر اتفاق کیاہے یہ بھی طے پایا ہے کہ انٹیلی جنس نظام کو مزید فعال بنایاجائے اجلاس کے دوران وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے امن کے لئے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیاہے انہوں نے مذاکرات کے راستے خود ہی بند کر دیئے ہیں حکومت کسی صورت دہشت گردوں کو کھلی چھٹی نہیں دے گی اور ان کی سازشوں کو ناکام بنانے سمیت منہ توڑ جواب دیا جائے گا یہ بھی معلوم ہواہے کہ مذکورہ اجلاس سے قبل وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں کالعدم تحریک طالبان اور مذاکرات مخالف دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف متوقع آپریشن کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیاگیا اور وزیراعظم نے اس حوالے سے پاک فوج کے موقف سے آگاہی حاصل کی اطلاعات کے مطابق اعلی سطح کے اس اجلاس میں سیاسی وعسکری قیادت نے ملک میںدہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر فورسز کے حملوں میں تیزی لانے اور دہشت گردوں کی نقل وحرکت روکنے کے لئے پاک افغان سرحد پر نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیاہے جبکہ دفاعی وسرکاری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو ہر حال میں کٹہرے میں لانے سمیت انٹیلی جنس نظام کو مزید مربوط بنانے کا فیصلہ کیاگیایہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ اجلاس میں ملک کے تمام بڑے ہوائی اڈوں پر فوج کی تعیناتی سے متعلق تجاویز پر غور کیاگیااجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے پیشگی اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ وفاقی وصوبائی حکومتوں اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید بہتر بنایاجائے گا اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ وزارت داخلہ کی ایسی پیشگی اطلاع کا کیا فائدہ جس کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے اقدامات نہ کئے جائیں وزیراعظم کا کہناتھا کہ انٹیلی جنس ادارے صرف قبل از وقت معلومات کی فراہمی تک محدود نہ رہیں بلکہ ان عناصر کا سراغ بھی لگائیں جو دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اعلی سطح کے اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں کے بعد ابہام کی فضا کا خاتمہ ہوگیاہے اور اب حکومت یقیناً ایک واضح سمت میں پیش قدمی کرے گی تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت کا اسی قسم کا ایک اور اجلاس منعقد کیاجائے جس میں چاروں وزرائے اعلی اور صوبوں کی وزارت داخلہ کی اہم شخصیات مدعو کی جائیں اور صوبوں پر واضح کیا جائے کہ وزارت داخلہ یا وفاقی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات پر انہیں فوراً عمل کرنا ہوگا کیونکہ ان کی کوتاہی یا تاخیر بڑے نقصان کا باعث بھی ہوسکتی ہے اگر سندھ حکومت نے وزارت داخلہ کی پیشگی اطلاعات کی روشنی میں کراچی ایئر پورٹ پر سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا ہوتاتو دہشت گردوں کے ایئرپورٹ کے اندر داخلے کو روکا جاسکتاتھا مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے یہ لازمی ہے کہ صوبائی حکومتوں کو بھی فعال کیاجائے انہیں ہر معاملے میں وفاقی حکومت کی طرف دیکھنے کی روش اب ترک کر دینی چاہیے وفاقی حکومت یا اس کی ایجنسیاں اگر کسی صوبے کو اطلاع فراہم کرتی ہیں کہ دہشت گردوں کی طرف سے فلاں مقام پر کارروائی کاخدشہ ہے تو اس کے مطابق صوبائی حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ تمام مطلوبہ اقدامات کرے افغان سرحد پر نگرانی کے نظام کو سخت کرنے کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے یہ بات اب راز نہیں رہی کہ قومی سلامتی کے اداروں اور اثاثوں پر حملے کرنے والوں کو سرحد پار سے تحفظ اور شہ ملتی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ سرحد پر نگرانی سخت کی جائے بلکہ جب کبھی ضرورت محسوس ہو اسے سیل کرنے سے بھی گریز نہ کیاجائے حال ہی میں حکومت پاکستان کی طرف سے افغانستان کی حکومت پر واضح کیاگیاہے کہ اگر کنڑ میں طالبان کو پناہ دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی کنڑ کے گورنر ان طالبان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو کارروائی کے بعد کنڑ جاکر پناہ لیتے ہیں کنڑ کے گورنر اور ان کی انتظامیہ طالبان کو اسلحہ کے علاوہ مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے افغان حکومت کو حکومت پاکستان کے اس انتباہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا پاکستان دشمن طالبان کی پیٹھ ٹھونکنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات دوطرفہ تعلقات کے لئے شدید نقصان کا باعث ہوسکتے ہیں۔