Get Adobe Flash player

دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی کے واقعات پر اقوام متحدہ کی تشویش

کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردوں کے حملے اور اسی روز تفتان زائرین پر دہشتگردوں کے حملوں نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے امریکہ سمیت متعدد ممالک نے ان واقعات کی مذمت کی اور حکومت کو دہشتگردی کے خلاف مزید اقدامات پر متوجہ کیا تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر گزشتہ روز جو بیان جاری کیا وہ بے حد معنویت کا حامل ہے انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی کے خلاف مزید اقدامات کرے انہوں نے کہا کہ وہ کراچی اور تفتان میں دہشتگرد حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں انہیں پاکستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے حکومت پاکستان تمام شہروں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرے اور ملک میں دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی کو کم کرنے کیلئے مزید اقدامات کرے دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی سمیت دیگر پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اگرچہ پاک فوج رینجرز پولیس اور اے ایس ایف نے کراچی ایئر پورٹ پر حملے کو ناکام بنا کر تمام دہشتگردوں کو ہلاک کردیا اور تمام اثاثے محفوظ رہے لیکن کراچی اور تفتان کے واقعات سے عالمی سطح پر جو منفی پیغام گیا ہے اس کا رد عمل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر ابھرا ہے کہ حکومت دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی کو کچلنے کے سلسلے میں ناکام ہو چکی ہے اور ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یہ تاثر حکومتی ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یہی نہیں جب کسی ریاست کے بارے میں دہشتگردوں کے حامی ہونے اور حکومت کے ناکام ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو اور بھی بہت سے سوالات اٹھنے لگتے ہیں پاکستان جیسی ایٹمی ریاست کے معاملہ میں تو یہ سوال ہرجگہ اٹھتا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو کیا حکومت اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کر پائے گی؟ گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک بھارتی صحافی نے بھی اسی حوالے سے سوال کر ڈالا جس کے جواب میں نائب ترجمان میری ہاف نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں اور اس معاملے میں عدم اطمینان کی کوئی وجہ نہیں ہے گویا دہشتگردی اور مذہبی انتہاء پسندی کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی نہ ہونے کی صورت میں کن کن زاویوں سے ملک کو نقصان پہنچنے کے خدشات ہو سکتے ہیں شاید حکومت کو اس کا اندازہ نہیں ہے تمام مذاہب کے پیروکاروں الغرض  تمام شہریوں کے جان و مال اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں چنانچہ اسے اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔