شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا نتیجہ ایک بار پھر ڈرون حملے

شمالی وزیرستان میں ساڑھے پانچ ماہ کے وقفے کے بعد شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر دو ڈرون حملے علاقے میں ان کی غیر معمولی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں پاکستان کی سرزمین پر رواں سال کا پہلا امریکی ڈرون حملہ میرانشاہ سے دس کلو میٹر دور واقع گائوں درگاہ منڈی میں کیاگیا جس میں ایک مکان اور ایک پک اپ گاڑی کو نشانہ بنایاگیا اس حملہ میں چھ افراد ہلاک ہوئے دوسرا حملہ ڈانڈے درپہ خیل پر کیاگیا دونوں ڈرون حملوں میں دس افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں یہ بھی بتایاگیاہے کہ پک اپ میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا اور اسے مکان کی بیرونی دیوار کے ساتھ پارک کیاگیا جبکہ شدت پسند مکان کے اندر موجود تھے ڈرون حملے میں پک اپ اور مکان دونوں تباہ ہوگئے ہلاک ہونے والوں میں چار ازبک اور دو پنجابی طالبان جنگجو شامل تھے پہلے حملے کے چھ گھنٹے بعد پانچ امریکی طیاروں نے ڈانڈے درپہ خیل میں چار مکانوں پر آٹھ میزائل داغے جن میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیاگیاہے اطلاعات کے مطابق جس علاقہ میں ڈرون حملہ کیاگیا اس میں حقانی نیٹ ورک کا بیس کیمپ بھی موجود ہے۔کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ کے بعد شمالی وزیرستان پر ڈرون حملے معنی خیز قرار دیئے جارہے ہیں اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دہشت گردوں کے خلاف عسکری تعاون برقرار ہے اور روبہ عمل ہے مبصرین کے مطابق رکے ہوئے ڈرون حملے آئندہ دنوں میں مزید تیز ہوں گے اور بالواسطہ طور پر یہ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان کوششوں میں معاونت کا کردار اداکریں گے پاکستان نے بھی جاسوس طیاروں کے ذریعے کارروائی کا فیصلہ کیاہے اب تک انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں پاک فضائیہ نے جتنی کارروائیاں کی ہیں وہ بے حد نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں چنانچہ فارمیشن کمانڈوں کے اجلاس میں جو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں منعقد ہوا عسکری قیادت کی طرف سے واضح کیاگیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لئے فضائی حملے اور سرجیکل سٹرائیکس جاری رہیں گی شمالی وزیرستان کی جغرافیائی صورتحال سے باخبر ماہرین نے بھی اس موقف کا اظہار کیاہے کہ زمینی دستوں کی کارروائیوں کے مقابلے میں مخصوص ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں مفید ثابت ہوئی ہیں اس لئے انہیں جاری رکھنے کا فیصلہ مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔