Get Adobe Flash player

سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور وفاقی وزیر داخلہ کے جائز اعتراضات

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے حوالے سے بجا طور پر اعتراضات اٹھائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو مختلف اوقات میں ایئرپورٹ پر ممکنہ دہشت گردی کے چھ مراسلے بھجوائے گئے لیکن اس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ امن وامان مکمل طور پر صوبائی ذمے داری ہے میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ کراچی واقعہ پر سندھ حکومت کا غیر سنجیدگی کامظاہرہ قابل مذمت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے سامنے سچ بولاجائے اورسیاسی بیانات سے حقائق کو نہ چھپایاجائے کراچی ایئرپورٹ بھارت میں نہیں کہ اس کی ذمے داری سندھ حکومت پر عائد نہیں ہوتی وہ ہائیکورٹ کے جج سے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے مسلسل اپنی ذمے داری پوری کی اور سندھ حکومت کو مختلف اوقات میں چھ الرٹ بھجوائے وزارت داخلہ نے مارچ میں سندھ حکومت کو لکھاکہ ایئرپورٹ کا گیٹ غیر محفوظ ہے اور یہ تک بتا دیاکہ گیٹ سیکورٹی رسک ہے رپورٹ میں ان مقامات کا حوالہ بھی دیاگیا جو غیر محفوظ اور دہشت گردوں کی نظر میں ہیں یہ بھی بتایاگیا کہ موٹر سائیکلوں پر آنے والے دہشت گرد ان مقامات کی تصاویر بنا چکے ہیں لیکن حکومت سندھ کی طرف سے کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد پیراشوٹ کے ذریعے ایئرپورٹ نہیں پہنچے دس غیر ملکی بھاری اسلحہ لے کر کراچی کی سڑکوں پر ایک گھنٹے تک پھرتے رہے مگر انہیں کہیں پر بھی کیوں نہیں روکاگیا انہیں ٹرمینل گیٹ پربھی نہیں روکا گیاجہاں پولیس کا ناکہ تھا وزیر اعلی سندھ اطلاع کے باوجود اجلاس میں نہیں پہنچے جبکہ ساڑھے گیارہ بجے تک فوج ایئرپورٹ پر پہنچ چکی تھی وفاق کی واضح ہدایات کے باوجود سندھ حکومت نے من پسند افسر آئی جی اور چیف سیکرٹری لگائے اور کراچی میں امن قائم رکھنے میں ذمے داری سے کام کرنے والوں کو ہٹادیاگیا ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ کے ذمے داران نادم ہونے کی بجائے بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں ہم خود رات بھر سندھ کے حکام کو تلاش کرتے رہے واقعہ ایئر پورٹ پر ہوا تو میٹنگ کسی اور جگہ کرنے کی کیا ضرورت تھی انہوں نے کہا کہ سچ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ واقعہ کی تحقیقات سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج سے کرائی جائے جب وفاقی سیکرٹری داخلہ نے سندھ کے چیف سیکرٹری سے واقعہ کے بارے میں پوچھا تو وہ لاعلم تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے سندھ حکومت کی مایوس کن کارکردگی اور غفلت کے حوالے سے جو الزامات عائد کئے ہیں وہ سنگین نوعیت کے ہیں جو صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی طرف سے انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں الرٹ اور مراسلوں کو اہمیت نہ دے اس سے عوام کے جان ومال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے کراچی آپریشن میں اگرچہ اب تک مطلوبہ نتائج سے کم نتائج حاصل ہوئے ہیں تو ہماری دانست میں اس کی وجہ بھی وزیر اعلی سندھ کی کمزور ایڈمنسٹریشن ہے وزیر اعلی کی جسمانی حالت اور عمر ایسی نہیں کہ وہ اس صوبے میں جو مختلف مافیاء اور دہشت گردوں کی زد میں ہے اور جہاں غیر ملکی عناصر اور ملک دشمن بھی ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہتے ہیں چوبیس گھنٹے چوکس اور مستعد رہ سکیں وزیر داخلہ کے سنجیدہ الزامات کو سیاسی عینک سے دیکھنے کی بجائے وزیر اعلی سندھ اور ان کی انتظامیہ کو اس امر کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے الرٹ اور مراسلوں کو صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ میں کس جگہ نظر انداز کیاگیا اور ان پر کارروائی کے لئے مطلوبہ اقدامات کیوں نہیں کئے گئے اصولی طورپر متعلقہ ادارے کو مراسلے اور الرٹ جونہی موصول ہوں وہ مطلوبہ اقدامات کے ساتھ ساتھ وزیر اعلی کو بھی ان سے باخبر کرے مگر بدقسمتی سے یہاں انہیں طاق نسیاں میں رکھ دیا گیا پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی اپنی پارٹی کی صوبائی حکومت کی اس مایوس کن کارکردگی کا سختی سے نوٹس لیناچاہیے انہیں پارٹی کے صوبائی لیڈروں کا اعلی سطح کااجلاس طلب کر کے سندھ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے چاہیں مسئلہ جماعتی مفادات یاکسی کے لئے نوازشات کا نہیں بلکہ صوبے کی سیکورٹی اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کا ہے اس اہم ترین معاملے کو محض وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے سیاسی اختلافات کے تناظر میں نہیں دیکھناچاہیے بلکہ وسیع تر قومی مفادات کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔