Get Adobe Flash player

سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام اسی سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق5 اپریل2013 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیاہے تاہم جاری کردہ حکمنامے کو15 دن کے لئے معطل کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ مذکورہ فیصلہ پندرہ دن بعد نافذ العمل ہوگا اس دوران اگر کوئی فریق سپریم کورٹ سے رجوع کرناچاہے تو اپیل دائر کی جاسکتی ہے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یہ استدلال قبول نہیں کہ کسی ملزم کو اس لئے باہر جانے سے روک دیاجائے کہ وہ واپس نہیں آئے گا ملک کی عدالتیں اور قوانین اتنے بے بس نہیں اس ضمن میں شاہ رخ جتوئی اور توقیر صادق کی مثالیں موجود ہیں جن میں عدالتوں نے احکامات جاری کئے اور ملزمان کو بیرون ملک سے واپس لایا گیا یہ قانون طے شدہ ہے کہ کسی ملزم پر سول یا کرمنل مقدمہ درج ہونے کی صورت میںملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا ازخود اطلاق ہوسکتاہے اور نہ ہی مقدمہ درج ہونے کی صورت میں ملزم کے بنیادی حقوق سلب کئے جاسکتے ہیں فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی وجوہات بیان نہیں کرسکے حالانکہ قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں نامزد ملزم کا نام بھی اس وقت تک ای سی ایل میں شامل نہیں کیاجاسکتا جب تک ای سی ایل میں نام شامل کرنے کی دو ٹھوس وجوہات شامل نہ ہوں جو قانون میں بیان کی گئی ہیں ۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم8 جولائی کو دیاتھالیکن ریکارڈ سے پتہ چلتاہے کہ پرویز مشرف کا نام5جولائی کو ہی ای سی ایل میں شامل کر دیاگیاتھاسپریم کورٹ کے حتمی فیصلے میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہ تھا اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی ہدایت نہیں دی اس کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت نے ان کا نام پہلے ہی شامل کر دیاتھا قانون کے مطابق اگر عدالت عبوری فیصلے جاری کرے اور حتمی فیصلے میں اس کا ذکر نہ ہوتو حتمی فیصلہ قائم رہتاہے اور عبوری حکم ختم ہوجاتاہے سندھ ہائیکورٹ کا محولہ فیصلہ دوررس اثرات کا حامل ہے کسی فرد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی وجہ حکومت یا انتظامیہ کا یہ خوف ہوتاہے کہ ملزم بعد ازاں عدالت میں پیش نہیں ہوگا اور اسے قانون کے مطابق سزا نہیں دی جاسکے گی فی زمانہ اگر ریڈ وارنٹ کے ذریعے مفرور ملزموں کو بیرون ملک سے ملک کے اندر لایاجاسکتاہے تو ای سی ایل سے نام نکلنے کی صورت میں کسی ملزم کے بیرون ملک جانے کی صورت میں اسے بوقت ضرورت کیوں نہیں لایاجاسکتا توقیر صادق کو لایاجاسکتاہے تو پرویز مشرف جومفرور نہیں ہیں قانون کے تحت ان کے ملک سے باہر جانے کی صورت میں انہیں بھی واپس لایاجاسکتاہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مضبوط اور موثر دلائل دیئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اس فیصلے کے خلاف معینہ وقت کے اندر اپیل دائر کرتی ہے یانہیں؟