عوامی تعمیر وترقی اور فلاح بہبود کا بجٹ

 پنجاب کی صوبائی حکومت نے10کھرب33ارب7کروڑ اور32 لاکھ روپے کا بجٹ پیش کر دیاہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخو اہوں میں دس فیصد اضافہ کیاگیاہے جبکہ مزدور کی کم ازکم تنخواہ بارہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے صوبائی حکومت نے چار نئی آشیانہ سکیمیں شروع کرنے طلبہ میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے اور پچاس ہزار بلو کیب دینے کا بھی اعلان کیاہے صوبے میں تعلیم کے لئے273 ارب صحت کے لئے121 ارب80 کروڑ اور توانائی کے شعبہ کے لئے31 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ریسکیو1122 کا دائرہ36 اضلاع تک پھیلانے کا فیصلہ بھی کیاگیاہے شہری املاک پر پراپرٹی ٹیکس کی شرح20 اور25 فیصد سے کم کر کے5فیصد کر دی گئی ہے اسٹامپ ڈیوٹی میں ایک فیصد اضافہ کیاگیاہے صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس گزاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی انعامی اسکیمیں شروع کی جائیں گی ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت اور بہتر نگرانی کے ذریعے ٹیکس چوری کے سدباب کے اقدامات سے پندرہ ارب روپے کے اضافی محصولات اکٹھے کئے جائیں گے پرائیویٹ اور کوآپریٹو ہائوسنگ اسکیموں میں واقع جائیداد کی خرید وفروخت پر رجسٹریشن فیس وصول نہ ہونے سے پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لئے رجسٹریشن فیس کی وصولی کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جارہی ہے رجسٹریشن فیس کو پانچ لاکھ سے کم جائیداد کی صورت میں پانچ سو روپے اور اس سے زیادہ مالیت کی جائیداد کی صورت میں ایک ہزار روپے کر دیاجائے گا جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی کو دو فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کر دیاجائے گا اس سے حکومت کو ایک ارب روپے کی آمدنی ہوگی پنجاب حکومت کے بجٹ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عوام پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے امراء پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ کیاگیاہے دوکنال سے لے کر آٹھ کنال تک کے گھروں پر ڈیڑھ لاکھ روپے فی کنال سے اڑھائی لاکھ روپے فی کنال کی شرح سے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آٹھ کنال سے زیادہ رقبہ پر محیط محل نما گھروں پر دو سے تین لاکھ روپے فی کنال کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے حاصل ہونے والے ٹیکس کی آمدنی کو آشیانہ اسکیموں میں بے گھر اور کم وسیلہ افراد کے لئے گھروں کی تعمیر پر صرف کیاجائے گا صوبائی بجٹ میں1600 سی سی اور اس سے زائد درآمدی پرتعیش گاڑیوں پر لگژری ٹوکن ٹیکس لگانے کا فیصلہ بھی کیاگیاہے ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھی بتدریج اضافہ کیاجارہاہے بجٹ کی روشنی میں ڈی اے پی کی بوری پچاس روپے سستی اور اخبارات میں اشتہارات پر پانچ فیصد ٹیکس عائد ہوگا صوبے میں تین ہزار فرموں کی بھرتی کا فیصلہ بھی کیاگیاہے تاکہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال ہوسکے فیصل آباد میں بھی میٹرو بس چلائی جائے گی پنجاب کے مختلف اضلاع میں دس نئے اسٹیڈیم بنائے جائیں گے بجٹ میں یہ ہدف رکھاگیاہے کہ آئندہ چار سال کے دوران70لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے اوپر لایاجائے گا20لاکھ افراد کو فنی تربیت دی جائے گی جبکہ چار برسوں کے دوران روزگار کے چالیس لاکھ مواقع پیدا ہوں گے رحیم یار خان اوکاڑہ اور ساہیوال میں تین نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کا انقلابی فیصلہ بھی کیاگیاہے۔صوبائی حکومت کے بجٹ کے سارے خدوخال عوامی تعمیر وترقی اور فلاح وبہبود کی نشاندہی کرتے ہیں ان پر ٹیکس عائد کئے گئے ہیں جو مراعات یافتہ ہیں اور پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں بڑے گھروں کے مالکان کو پہلی بار ٹیکسوں کی زد میں لایا گیاہے اسی طرح پرتعیش گاڑیاں درآمد کرنے والوں سے بھی بھاری ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے بے گھر اور کم وسیلہ افراد کے لئے آشیانہ اسکیموں کا فیصلہ بے حد اہمیت کا حامل ہے پرتعیش اور بڑے گھروں سے وصول ہونے والے ٹیکسوں سے کمزور طبقات کے لئے گھر بنانے کی سوچ یقیناً انقلابی ذہن کی پیداوار ہوسکتی ہے پنجاب میں دس نئے اسٹیڈیم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے اسپتالوں میں مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لئے تین ہزار نرسوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ بھی دوررس اثرات کا حامل ہے اس کے نتیجے میں صوبے کی تعلیم یافتہ تین ہزار لڑکیوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے اس طرح خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے حکومتی اقدامات کو بھی وسعت ملے گی۔ مختلف شعبوں کے لئے وزیر خزانہ نے درست طور پر بجٹ مختص کیاہے بلاشبہ یہ عوامی بہبود کابجٹ ہے تاہم اصل بات اس بجٹ کے نتائج اور ثمرات کی ہے ہمارے ہاں یہ رحجان عام ہے کہ مختص رقوم کو مکمل طور پر اور دیانتداری کے ساتھ خرچ نہیں کیا جاتا وزیر اعلی پنجاب جو ایک فعال اور متحرک شخصیت ہیں وہ اگر منصوبوں پر بجٹ کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنا سکیں تو بلاشبہ وہ صوبے کی تاریخ میں بہترین منتظم کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔