Get Adobe Flash player

بھارتی وزیراعظم کی خواہش محاذ آرائی اور تشدد سے پاک ماحول

وزیراعظم محمد نوازشریف کے خیر سگالی کے جذبات کا جس گرمجوشی سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جواب دیاہے اسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں اعتماد سازی کی جانب اہم اقدام قرار دیاجاسکتاہے وزیراعظم پاکستان کے خط کے جواب میں بھارتی وزیراعظم کا خط دراصل مل کر کام کرنے اور خطے سے غربت کے خاتمہ کے لئے وزیراعظم نوازشریف کی تجویزپر مثبت ردعمل ہے بھارتی وزیراعظم نے اپنے جوابی خط میں کہاہے کہ وہ محاذ آرائی اور تشدد سے پاک ماحول میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے مخاطب ہو کر کہا کہ نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں ان کی شرکت میرے لئے مسرت کا باعث تھی انہوں نے کہا وزیراعظم نوازشریف اور خطہ کے دیگر رہنمائوں کی موجودگی سے نہ صرف تقریب زیادہ پر وقار ہوگئی بلکہ یہ ہمارے خطے میں جمہوریت کی قوت اور ہماری اجتماعی امیدوں اور مشترکہ مستقبل کی عکاس تھی بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال اور صلاحیت میں ہم آہنگی سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی بالخصوص یہ امر کہ امن دوستی اور تعاون سے عبارت پاک بھارت تعلقات سے ہمارے نوجوانوں کے لئے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے اور ہمارے خطے کے عوام کے لئے زیادہ خوشحال مستقبل کا حصول اور ترقی کی رفتار تیز ہوگی انہوں نے کہا کہ وہ پاک بھارت دوطرفہ تعلقات کی نئی راہ کے تعین کے لئے محاذ آرائی اور تشدد سے پاک ماحول میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں بھارتی وزیراعظم نے اپنے خط میں کراچی میں دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور اس وحشیانہ حملے میں بیگناہ جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔بنیادی بات جس کا بھارتی وزیراعظم نے اپنے خط میں ذکر کیا وہ یہ ہے کہ محاذ آرائی اور تشدد سے پاک ماحول میں وہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں یہی احساس اس طرف بھی موجود ہے پاکستان کا بھی یہ موقف ہے کہ کشیدگی اور تشدد سے پاک ماحول میں دونوں ملک اپنے اپنے عوام کی ترقی کے لئے کردار اور خطے میں امن قائم کرسکتے ہیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ خیالات کی ہم آہنگی کا بھی ذکر کیا ہے گویا وہ بھی دو طرفہ تعلقات کے استحکام کے خواہاں ہیں اب دونوں لیڈروں کو محاذ آرائی اور تشدد سے پاک ماحول قائم کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا ہم سمجھتے ہیں آئندہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی اس حوالے سے تجاویز پیش کی جانی چاہیں کہ ماحول کو تشدد اور محاذ آرائی سے کیونکر پاک رکھاجاسکتاہے دونوں ملکوں کے درمیان تصفیہ طلب امور حل ہونے سے بھی اس جانب ایک بڑی پیش رفت ہوسکتی ہے جبکہ اعتماد سازی کے حوالے سے بھی دیگر اقدامات بروئے کار لائے جاسکتے ہیں اگر نیک نیتی اور اخلاص ملحوظ رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کئے جاسکیں۔