شمالی وزیرستان سے عسکریت پسندوں کا فرار اور متوقع آپریشن کی افادیت

مصدقہ اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے اعلانات کے بعد اگر عام شہریوں نے بعض علاقوں سے نقل مکانی کی ہے تو غیر ملکی جنگجوئوں کی بھاری تعداد بھی افغانستان کے بعض علاقوں کی جانب فرار ہوگئی ہے یہ صورتحال اگرچہ اس مثبت پہلو کی نشاندہی کرتی ہے کہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاک فوج کو بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے  گا اور وہ آسانی کے ساتھ شمالی وزیرستان کے ان علاقوں پر بھی حکومتی اتھارٹی بحال کر سکے گی جہاں پہلے شدت پسندوں کی عملداری تھی لیکن تصویر کا دوسرا تشویشناک رخ یہ ہے کہ مفرور عسکریت پسند جو غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں کچھ مدت کے بعد پھر سے اپنی مذموم کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں اگر حکومتی منصوبہ یہ ہے کہ قبائل انہیں پھر سے شمالی وزیرستان یا کسی دوسری ایجنسی میں داخل نہیں ہونے دیں گے تو اس منصوبے کو فول پروف نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں غیر ملکی عناصر نے ہزاروں ڈالرکرایہ  دے کر ان ہی مقامی لوگوں سے گھر حاصل کئے تھے اور بعدازاں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی تھی انہوں نے شمالی وزیرستان اور دیگر ایجنسیوں سے ماہانہ بھاری تنخواہوں کے عوض اپنے لئے افرادی قوت حاصل کی تھی' اے ایف پی نے بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں عسکریت پسندوں کے افغانستان فرار کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہزاروں قبائل شہری بھی سرحد پار نقل مکانی کر گئے ہیں غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق فرار ہونے والے غیر ملکی جنگجوئوں میں چیچن' ازبک' ترکمانی تاجک  اور یغور نسل سے تعلق رکھنے والے  شامل ہیں دنیا کے ان خطرناک ترین جنگجوئوں کا بچ کر نکل جانا آپریشن کی افادیت پر سوالیہ نشان ہوگا۔تاہم سیکورٹی حکام کے مطابق آپریشن کی صورت میں پاک فوج کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غیر ملکی رپورٹوں کے مطابق علاقے سے غیر ملکی عسکریت پسندوں کا انخلاء 22مئی کے فضائی حملوں کے بعد سے جاری ہے کراچی ائیرپورٹ پر طالبان کے حملے کے بعد جس سے امن عمل سبوتاژ ہوا پہاڑی علاقوں پر مشتمل شمالی وزیرستان سے اس انخلاء میں تیزی آئی ہے ایک رپورٹ میں ایک سینئر انٹیلی جنس عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بیشتر غیر ملکی جنگجو پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر افغان صوبے غرنی کے شہروں شوال اور لربل کی جانب جاچکے ہیں جبکہ کچھ سرحدی پہاڑی علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں ایک دوسرے سیکورٹی عہدیدار کے مطابق غیر ملکی عسکریت پسندوں کا علاقہ چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80فیصد کے لگ بھگ مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسند شمالی وزیرستان چھوڑ چکے ہیں۔اس نئی صورتحال کا یہ پہلو بے حد دلچسپ اور معنی خیز ہے کہ ابھی تک افغان حکومت نے عسکریت پسندوں کے بعض افغان علاقوں میں منتقل ہونے پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ غیر ملکی عسکریت پسندوں اور بعض ملکی شدت پسندوں کے علاقے سے فرار کے معاملات سے پاک فوج اور اسکی  ایجنسیاں بخوبی آگاہ تھیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ان کی کسی حکمت عملی کا نتیجہ  ہے' وہ نہیں چاہتی تھیں کہ تصادم کی کیفیت تک پہنچ جائے کہ مقامی بے گناہ افراد بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں' دہشت گردوں نے ہمیشہ انسانی آبادیوں کو اپنے تحفظ کے لئے استعمال کیا ہے تاہم پاک فوج کی یہ حکمت عملی کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان مفرور دہشت گردوں کو مستقبل میں پاکستان کے بعض قبائلی علاقوں میں دوبارہ داخل ہونے سے روکا جاسکے گا؟ اگر حکومت اور اس کے اداروں کے پاس اس معاملے میں کوئی فول پروف حکمت عملی موجود ہے تو یقیناً علاقے میں امن اور ملک  کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے سلسلے میں  حکومت قوم کی  تحسین کی مستحق ہوگی ملکی اور غیر ملکی جنگجوئوں کا فرار عوام اور  ملک کے لئے  ریلیف کے عارضی لمحات تو ہوسکتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں مستقل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔