شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن

دہشت گردوں کو راہ راست پر لانے کی حکومتی کوششوں میں ناکامی کے بعد آخر یہی فیصلہ ہونا تھاجو گزشتہ روز منظر عام پر آیا حکومت نے ان کے ساتھ مکالمے کے معاملے میں بے حد درجہ نرمی اور تحمل سے کام لیا انہیں بار بار ہتھیار پھینکنے اور آئین کی بالادستی قبول کرنے کے لئے کہا مگر وہ تضادات ابہام اور وعدہ خلافیوں کا امتزاج تھے کبھی نفاذ شریعت کامطالبہ کرتے کبھی آئین کے وجود سے انکار کرتے اور کبھی شمالی وزیرستان میں اپنے لئے ایسے محفوظ قطعہ زمین کا تقاضا کرتے جہاں ان کی سرگرمیوں پر ان سے کوئی بازپرس کرنے والا نہ ہو درحقیقت ان کے مذموم عزائم اور ان کا ہر عمل قومی سلامتی کے لئے چیلنج تھا اسلام اور شریعت کے ان نام نہاد علمبرداروں نے پاک فوج اور ملک کی سیکورٹی اداروں پر حملے کئے مساجد اور مزارات کو نقصان پہنچایا قومی معیشت کو اربوں کے نقصانات سے دوچار کیا۔ وطن عزیز کے پچاس ہزار کے لگ بھگ شہریوں اور پاک فوج کے پانچ ہزار سے زائد افسروں اور جوانوں کو شہید کیا یہ دہشت گردی ایک انداز سے پاکستان کے خلاف جارحیت کا لبادہ اوڑھ چکی تھی حکومت کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات اور ثبوت بھی موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے بعض گروپوں کو پاکستان کے دشمنوں کی بھی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور وہ ان کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تمام حالات سے آگاہی کے باوجود حکومت نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور اس امر کی کوشش کی کہ بھٹکے ہوئے راہ راست پر آجائیں مگر انہوں نے حکومت کی نرمی اور اس کے مثبت انداز فکر کو اس کی کمزوری سے تعبیر کیا حالانکہ ریاست کی طاقت کے سامنے چند سو یاچند ہزار دہشت گردوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی حکومت نے جو فیصلہ کیا وہ ناگزیر ہوچکا تھاپاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے آپریشن کے آغاز کے سلسلے میں جو بیان جاری کیا وہ ان حقائق کا آئینہ دار ہے جن سے ہم سب واقف ہیں بیان میں کہاگیاہے کہ حکومت کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں ملکی وغیر ملکی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے''ضرب عضب،، کے نام سے زمینی آپریشن شروع کر دیاگیاہے طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کر دیئے گئے ہیں جس کے بعد فوج نے پیش قدمی کر کے میر علی اور میرانشاہ کا محاصرہ کر لیاہے بیان کے مطابق ملکی وغیر ملکی شدت پسندوں نے شمالی وزیرستان کو پناہ گاہ بنا کر پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ شروع کر رکھی تھی انہوں نے قومی سطح پر زندگی کو مفلوج اور اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈال رکھی تھی۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق شدت پسند قبائلی ایجنسی میں بسنے والے امن پسند لوگوں کو بھی دہشت گردی کانشانہ بنا رہے تھے مسلح افواج کو رنگ ونسل کے امتیاز کے بغیر شدت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے پوری قوم کی حمایت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے ریاست کے ان دشمنوں کو ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں دی جائے گی فوج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ دہشت گرد قومی زندگی کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم کر رہے تھے قوم کے تعاون سے قیام امن کے لئے دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے آغاز کے بعد مارے جانے والے دہشت گردوں میں اکثریت ازبکوں کی ہے بمباری زمینی اور فضائی کارروائی میں106دہشت گرد مارے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔آپریشن کے آغاز میں ہی غیر ملکی دہشت گردوں کی بھاری تعداد میں ہلاکتیں اور ان کے ٹھکانوں کی تباہی ایک بڑی کامیابی ہے حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم سمیت ملک کے طول وعرض سے آپریشن کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں پاکستان کے عوام جو برسہا برس سے دہشت گردی کا بالواسطہ اور براہ راست نشانہ ہیں ملک میں امن وترقی اور خوشحالی کے لئے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتے ہیں۔ ملک کی سلامتی آئین کی بالادستی اور قوم کی خوشحالی پر یقین رکھنے والا ہر شہری پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے پوری قوم کو ان نازک لمحات میں شہروں کے اندر مستعد اور چوکس ہو کر سیکورٹی اداروں سے تعاون کرناہے شدت پسندوں کے ایجنٹ کسی نہ کسی انداز سے کوئی بھی کارروائی کر سکتے ہیں پوری قوم کو دہشت گردی کی آڑ میں ملک کے خلاف جارحیت کا قلع قمع کرنے کے لئے پاک فوج سمیت تمام سیکورٹی اداروں سے اسی طرح بھرپور تعاون کرناہوگا جس طرح اس نے ماضی میں آپریشن راہ نجات کی کامیابی کے لئے کیاتھا۔