حالات کا تقاضا حکومت مخالف جلسوں اور ٹرین مارچ کو ملتوی کیا جائے

اب جبکہ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں پاک فوج نے شمالی وزیر ستان میں آپریشن شروع کردیا ہے شہروں کے اندردہشت گردوں کی کسی قسم کی جوابی کارروائی سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے بتایا گیا ہے کہ حکومتی آپریشن کے نتیجے میں رد عمل کے طور پر راولپنڈی، اسلام آباد،کراچی ،لاہور ،پشاور،کوئٹہ اور دوسرے شہروں میںدہشت گردوںکی طرف سے کسی قسم کے جوابی حملہ کا خطرہ ہے وہ اہم تنصیبات کونشانہ بنا سکتے ہیں چنانچہ اس خطر ے کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کوہائی الرٹ کر دیا گیا ہے پولیس ،رینجرز اور فوجی دستے اہم عمارتوں پر تعینات کر دیئے گئے ہیں شہروں کے اندر عوام کوزیادہ چوکس رہنا ہوگا جونہی یہ اپنے علاقے میں کسی مشتبہ شخص کو دیکھیں فوری طور پر سیکورٹی فورسز کو اسکی اطلاع کریں پوری قوم کے اجتماعی کردار سے ہی ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ اور مستقل بنیادوں پر امن کا قیام ممکن ہے ہم اس موقع پر سیاسی رہنمائوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ کچھ دنوں کے لئے جلسے جلوسوں کے پروگرام ملتوی کردیں علامہ طاہر القادری کو چاہیے کہ کسی اجتماع کا انتظام کئے بغیر باوقار انداز میں وطن تشریف لے آئیں جبکہ شیخ رشید بھی اپنے ٹرین مارچ کو سردست ملتوی کردیں دہشت گردوں سے بعید نہیں کہ وہ مایوس ہو کر سیاسی اجتماعات کو ہی نشانہ بنانا شروع کردیں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ ان دنوں کسی بھی عنوان کے تحت کسی بھی ریلی کا اہتمام نہ کیا جائے خدانخواستہ اگر ریلی کے دوران دہشت گردی کی کارروائی ہوئی تو اسکے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا ہے طاہر القادری اور شیخ رشید حکومت مخالف جلسے پہلے ہی کرتے رہے ہیں آئندہ بھی شوق پورا کرلیں تاہم انہیں چاہیے کہ آپریشن کے دنوں میں شہریوں کو دہشت گردوں کی کسی قسم کی جوابی کارروائی سے محفوظ رکھنے کیلئے جلسے جلوسوں سے گریز کریں شہریوں کی سلامتی کے معاملے میں سیاسی رہنمائوں کو اپنی ذمے داریوں کا پاس کرنا چاہیے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں شہریوں کی سلامتی کے خدشات سر اٹھانے لگیں انفرادی اور جماعتی مقاصد ومفادات کو کسی صورت بھی مملکت اور عوام کے مفاد پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔