وزیراعظم کا پارلیمنٹ سے خطاب،قوم کے جذبات کی ترجمانی

وزیراعظم محمد نوازشریف نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بارے میں اعتماد میں لیا اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن''ضرب عضب،، مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا اور اس سلسلے میں پوری قوم کو مسلح افواج کا ساتھ دینا ہوگا وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میڈیا تمام طبقات اور پوری قوم کو مسلح افواج کی پشت پر کھڑا ہوجاناچاہیے انہوں نے کہا کہ علماء کرام بھی اہل وطن کی رہنمائی کریں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی تاریخ بدل کر اسے امن کا گہوارہ بنائیں گے امن کی راہ اختیار کرنے والوں کے لئے خصوصی مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں پرامن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاجائے گا وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چار ماہ قبل23 جنوری کو اعلان کیاتھا کہ امن کو موقع دینے کے لئے حکومت بامعنی مذاکرات شروع کر رہی ہے اس مقصد کے لئے مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیاگیا جس کے ایوان نے توثیق کی انہوں نے کہا کہ اس وقت میں نے کہاتھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے عوام گواہ ہیں ہماری نیک نیتی پر مبنی پیش رفت کو اسی جذبے کے ساتھ نہیں لیاگیا تاہم حکومت نے صبر سے کام لیتے ہوئے مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش جاری رکھی افسوس ہے کہ مذاکرات چار ماہ میں ناکام ہوئے ہم مذاکرات کر رہے تھے دوسری طرف تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہاتھا کچہری سے ائیرپورٹ تک آگ وخون کا کھیل کھیلا جا رہاتھا دشمنوں نے اپنے طرز عمل سے کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہم نے امن کو پہلی ترجیح دی لیکن ہر کوشش کو ناکام بنادیاگیا ہم نے وطن کو امن کی سرزمین بنانے کا فیصلہ کیاہے یقین ہے یہ آپریشن امن کے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوگا طویل مذاکراتی عمل میں سیاسی وفوجی قیادت میں مشاورت کا عمل جاری رہا تمام فیصلے ہم آہنگی سے کئے گئے دہشت گردی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ ہی آپریشن کا فیصلہ کیاگیا وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکاہے دہشت گردی ہماری معیشت کو103ارب ڈالر کا زخم لگا چکی ہے مساجد امام بارگاہیں اور عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں کھیل کے میدان ویران ہیں بازار وشہر خوف کے سائے میں ہیں سیاسی قیادت نے مثبت کردار ادا کیاہے یقین سے تمام سیاسی قیادت یکسو رہے گی وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن کا آغاز ہوچکاہے قوم جانبازوں کے ساتھ کھڑی ہے جو وطن کی سلامتی کا معرکہ لڑ رہے ہیں اس معرکہ میں مائوں بہنوں بیٹیوں سمیت سب کی دعائیں فوج کے ساتھ ہیں ہم ملک کو کسی بھی قیمت پر دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ وزیراعظم کا محولہ خطاب دراصل پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے اس خطاب کے ذریعے انہوں نے پوری قوم اور عالمی برادری پر ایک بار پھر یہ واضح کیاہے کہ انہوں نے امن کو ایک موقع دینے کے لئے مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کی تھی لیکن بدقسمتی سے دوسرا فریق نیک نیتی سے دور تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی اس کی طرف سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایاجاتارہا تاہم دہشت گردی کے بعض دیگر واقعات اور کراچی ایئرپورٹ پر حملہ آپریشن کے فیصلے کا فوری جواز بنا وزیراعظم نے بعض حلقوں کے اس پروپیگنڈے کی بھی نفی کی کہ حکومت اور پاک فوج آپریشن سمیت بعض دیگر معاملات میں ایک صفحے پر نہ تھیں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مذاکرات سے لے کر آپریشن تک تمام فیصلے مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ کئے گئے اس سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ حکومت مخالف عناصر حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کا بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے رہے یہ امر خوش آئند ہے کہ سوائے ایک دو جماعتوں کے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ہر طبقہ فکر کے عوام نے آپریشن کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیاہے اور اس عزم کا اظہار کیاہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے وہ پاک فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیںآپریشن کی حمایت سے گریز کامطلب شدت پسندوں کو ان کے مذموم عزائم کے سلسلے میں شہ دینے کے مترادف ہے جبکہ اس کی حمایت اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب مملکت کے استحکام اس کے امن اور اس کی ترقی و خوشحالی کے عمل میں شرکت ہے قوم کے سامنے تمام سیاسی جماعتوں کا کردار واضح ہے یقیناًمستقبل میں قوم کو جب بھی رائے دینے اور فیصلے کرنے کا موقع ملا وہ آج کے لمحات میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو بہرصورت اپنے پیش نظر رکھے گی