تحفظ پاکستان بل کی منظوری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق''تحفظ پاکستان ترمیمی بل،،پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے ہوگیاہے اور حکومت نے حزب اختلاف کی پندرہ سفارشات تسلیم کر لی ہیں تاہم حکومت کی طرف سے اپوزیشن کی متفقہ سفارشات جمعیت علمائے اسلام ف کو بھیجنے پر سینٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے شدید احتجاج کیاہے ان کا موقف ہے کہ حکومت نے انہیں بتائے بغیر بل پر اپوزیشن کی متفقہ سفارشات جے یو آئی کو بھجوا دی ہیں جوحکومت کی اتحادی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر جے یو آئی نے اس میں ترامیم کیں تو اپوزیشن بل میں مزید ترامیم لے آئے گی اپوزیشن کی سفارشات کے تحت دہشت گردی اور قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کراچی آپریشن یا دیگر مقامات پر ہونے والے آپریشن کی عدلیہ کے ذریعے نگرانی ہوگی دہشت گردی یا قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث جس شخص کو بھی پکڑاجائے گا اس کی حراستی مدت نوے دن کے بجائے45 دن ہوگی اور ہر پندرہ دن بعد زیر حراست شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا اپوزیشن نے اس موقف کا اظہار بھی کیاہے اس وقت تحفظ پاکستان آرڈیننس کا وجود نہیں ہے اپوزیشن جماعتوں نے جو متفقہ ترمیمی پیکج حکومت کو پیش کیاہے اسے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے پاس کرایاجائے مذکورہ بل کا مسودہ مسلم لیگ ن تحریک انصاف ایم کیو ایم اے این پی بی این پی عوامی اور پیپلز پارٹی کا متفقہ تیار کردہ ہے جس سے حکومت اتفاق کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود اسے جے یو آئی کے حوالے کر دیاگیاہے جس پر اپوزیشن کے تحفظات سامنے آئے ہیں اصل بل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے پاس موجود ہے اپوزیشن کو متفقہ سفارشات کی روشنی میں اسے جلد ازجلد کمیٹی سے پاس کروا لینا چاہیے بصورت دیگر اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لے جانا پڑے گا جہاں سے منظوری خاصی مشکل ہوسکتی ہے بل میں اپوزیشن کی ترمیم کے مطابق فائرنگ میں ہلاک ہونے والے شخص کی عدالتی انکوائری ہوگی اور جو بھی کارروائی کی جائے گی وہ عدلیہ کی نگرانی میں ہوگی کسی مقام یا گھر کی تلاشی لینے کی صورت میں اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر تلاشی کی وجہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو بتانی ہوگی متاثرہ شخص کو صرف سپریم کورٹ میں ایک اپیل کا حق دینے کے ساتھ اب ہائیکورٹ کی سطح پر بھی اپیل کا حق دیاگیاہے حراستی مراکزکی بھی عدالتی نگرانی ہوگی البتہ یہ جج پر منحصر ہوگا کہ وہ حراستی مرکز میں موجود افراد کے بارے میں رپورٹ عوام کے لئے جاری کرتا ہے یانہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اپوزیشن کی ترامیم و سفارشات کی موجودگی میں تحفظ پاکستان بل پر اب مزید بحث و تمحیص کے ذریعے وقت ضائع کرنے کی بجائے اسے جلد از جلد پاس کیاجاناچاہیے جمعیت علمائے اسلام ف کی فکر کے بارے میں سب کو معلوم ہے وہ اپوزیشن کی متفقہ سفارشات پر اعتراضات وترامیم کے ذریعے معاملہ کو مزید معرض التواء میں ڈال سکتی ہے حکومت کو جے یو آئی کی ترامیم کا انتظار کرنے کی بجائے تمام اپوزیشن جماعتوں کی متفقہ سفارشات کو اہمیت دینی چاہیے اور بل کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کرناچاہیے۔