امریکہ کی پاک افغان سرحد پر نگرانیدہشت گردوں کے فرار کے راستے مسدود

 شمالی وزیرستان میں ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کے سلسلے میں مزید حوصلہ افزاء اقدامات سامنے آئے ہیں ایک یہ کہ پاکستان کے عظیم دوست ملک چین کی طرف سے آپریشن کا زبردست خیر مقدم کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ چین پاکستان کی اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر اقدام کی حمایت کرتاہے دوسرا یہ کہ امریکہ کی طرف سے پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں داخل نہ ہوسکیں افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے غیر ملکی میڈیا سے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ امریکہ اور پاکستان اس آپریشن کے سلسلے میں کوآرڈینیشن نہیں کر رہے تاہم امریکی فوج اور افغان فوج کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے میں اضافہ کیاگیاہے ان کا کہنا تھا کہ خطے میں افغان فورسزاور امریکی فوج اس آپریشن کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں جس میں دہشت گردوں کے افغانستان میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے فوراًً بعد وزیراعظم نوازشریف نے افغان صدر سے رابطہ کیاتھا اور پاک افغان سرحد کو سیل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانہ نہ مل سکے تاہم افغان حکومت کی طرف سے اس ضمن میں معنی خیز خاموشی اختیارکی گئی کابل انتظامیہ کی طرف سے ماضی میں اکثر یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں لیکن اب جبکہ پاکستان نے کہا کہ وہ نہیں چاہتا کہ آپریشن کے دوران کوئی دہشت گرد فرار ہو کر افغانستان میں داخل ہو اس لئے نہ صرف سرحد پر نگرانی سخت کردی جائے بلکہ اسے سیل کر دیاجائے تو کابل انتظامیہ نے کسی قسم کی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیںکیا تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ امریکی فوج نے پاکستان کے پیغام اور حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنی ذمے داریوں کو محسوس کیاہے جس کے بعد یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ فرار ہونے والوں کو محفوظ راستہ نہیں مل سکے گا ادھر چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ تعلقات بڑھائیں گے ترجمان کے مطابق مشرقی ترکستان اسلامی تحریک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اسے دہشت گرد قرار دے چکی ہے اس تنظیم کے خلاف جنگ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ ہے چین کے اس اہم بیان کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ یہ پاک فوج کے اس بیان کے بعد آیاہے جس میں شمالی وزیرستان میں چینی شدت پسندوں کی تنظیم کے جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا انکشاف کیاگیاتھا۔