پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر کے قومی پرچم لہرا دیئے

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب تیزتر کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے آپریشن کے پہلے چار دنوں میں پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور ایجنسی کے بعض علاقوں میں موجود ان کے ساٹھ فیصدسے زائد ٹھکانے تباہ کر دیئے ہیں اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی طرف سے دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئے ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ گزشتہ تین دنوں میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیاگیاہے جبکہ پاک فوج نے دتہ خیل بکلیل طوری خیل اور میرانشاہ کو مکمل طور پراپنے حصار میں لے لیاہے اور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئے72 گھنٹے کا وقت دیاہے دہشت گردوں کو نوٹس دیاگیاہے کہ اگرمعینہ وقت کے اندر سرنڈر نہ کیاگیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی بتایا گیاہے کہ شمالی وزیرستان کو مشرقی مغربی اور شمالی تین اطراف سے گھیرے میں لیاگیاہے اور دہشت گردوں کے فرار کے تمام راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں مصدقہ اطلاعات کے مطابق حالیہ آپریشن کے دوران جرمن نژاد ابو عبد الرحمن مانی سمیت18ازبک اور آٹھ چیچن بھی مارے گئے ہیں عسکری ذرائع کے مطابق مربوط حکمت عملی کے تحت فضائی حملوں اور زمینی دستوں کی کارروائیوں کے دوران میر علی اور دیگر علاقوں میں ساٹھ فیصد سے زائد ٹھکانے دہشت گردوں کا آپریشنل نظام اور بڑی تعداد میں اسلحہ وبارود کے ذخائر تباہ کئے گئے ہیں جامع آپریشن کے باعث ازبک چیچن اور دیگر ملکی وغیر ملکی دہشت گرد تتر بتر ہورہے ہیں جبکہ فورسز نے شمالی وزیرستان ایجنسی کا چالیس فیصد سے زائد علاقہ دہشت گردوں سے پاک کر دیاہے ادھر برطانوی نشریاتی ادارے نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایاہے کہ شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے گھیر لئے گئے ہیں فوجی کارروائی آبادیوں میں نہیں ہو رہی جبکہ عام شہریوں کا محفوظ انخلاء مکمل ہوگیاہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں دس سال بعد پاکستان کا پرچم لہرایاگیاہے پاک فوج نے وزیرستان سے ملنے والی بلوچستان کی سرحد بھی سیل کر دی ہے جبکہ ایک اہم پیش رفت افغانستان کے سفیر بابان موسی زئی کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی صورت سامنے آئی ہے جی ایچ کیو میں ہونے والی اس ملاقات میں آرمی چیف کی طرف سے افغانستان سے کہاگیاہے کہ وہ افغان صوبے کنڑ اور نورستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان کی قیادت کے خلاف فوری کارروائی کرے اور شمالی وزیرستان سے ملحقہ سرحد پر نگرانی کو سخت بنائے تاکہ شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کو افغانستان میں داخل ہونے سے روکا جائے جبکہ وزیراعظم نوازشریف کے نمائندے کی حیثیت سے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری دو روزہ دورے پر کابل میں پہلے سے ہی موجود ہیں انہوں نے صدر کرزئی سے دو بار ملاقات کی ہے سیکرٹری خارجہ نے افغان صدر کو وزیراعظم نوازشریف کا پیغام پہنچایاہے جس میں پاکستان نے شمالی وزیرستان آپریشن کے دوران افغانستان سے تعاون مانگاہے اور کہاہے کہ آپریشن کے علاقے اور اس سے ملحقہ سرحد پر اضافی فوج تعینات کی جائے یہ اطلاع بے حد اہمیت کی حامل ہے کہ سیکرٹری خارجہ نے صدر کرزئی پر واضح کیاہے کہ پاکستان اب حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی کر رہاہے اس لئے افغانستان میں کنڑ اور نورستان میں ملا فضل اللہ اور ان کی شوری کے ارکان کے خلاف کارروائی کرے تاکہ خطے کو دہشت گردی سے پاک کیاجاسکے بتایاگیاہے کہ صدر حامد کرزئی کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکمت عملی کے یہ تمام پہلو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاک فوج دہشت گردی کے خلاف مزید کامیابیاں حاصل کرے گی آپریشن کے بعد دہشت گردوں سے بعض شہروں میں جس سخت ردعمل کی توقع کی جارہی تھی اس میں ان کی ناکامی بھی اس امر کی غماز ہے کہ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ پہلے کی طرح آپریشنل نہیں ہیں اس کے باوجود یہ لازم ہے کہ صوبائی ووفاقی حکومتیں ہر لحظہ مستعد اور چوکس رہیں دشمن ذرا سی بھی غفلت سے فائدہ اٹھا سکتاہے اس کی مکمل شکست تک پوری قوم کو متحد اور مستعد رہنا ہوگا اس میں شک نہیں کہ پاک فوج مربوط حکمت عملی کے تحت ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے تاہم آپریشن سے منسلک ان متاثرہ خاندانوں کی دیکھ بھال کامسئلہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جنھیں آپریشن کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے وزیراعظم نے وفاقی وزیر جنرل(ر)عبدالقادر بلوچ کو اس حوالے سے ذمے داری سونپی ہے تاکہ وہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کے ساتھ مل کر متاثرین کو ان کے کیمپوں میں سیکورٹی سمیت تمام بنیادی سہولتیں فراہم کریں اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی دیکھ بھال کے معاملے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے خیبر پختونخواہ اور وفاق کی حکومتوں کو مل کر متاثرین کو ان کے کیمپوں میں زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کرنی ہوں گی۔