Get Adobe Flash player

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیاہے کہ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے خصوصی پولیس فورس تیار کی جائے ملک میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخودنوٹس پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیاہے وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک خصوصی کونسل بھی تشکیل دے جو پاکستان کے آئین میں اقلیتوں سے متعلق دیئے گئے حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اس کونسل کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے تجاویز دینے کا بھی اختیار ہوگا یہ امر قابل ذکر ہے کہ ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران ہندوئوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایاگیا تاہم نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن یعنی نادرا کے حکام نے عدالت عظمی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہندوئوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد شروع کر دیاجائے گا عدالت کو بتایاگیا کہ اب یہ سلسلہ شروع کیا جاچکاہے فیصلے میں کہاگیاہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں بالخصوص صوبہ سندھ میں ہندوئوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایاگیا لیکن مقدمات درج کرنے کے علاوہ کارروائی آگے نہ بڑھ سکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے عدالت نے ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا جو سوشل میڈیا پر اقلیتوں یا مذہب کے بارے میں نفرت انگیز موادپھیلاتے ہیں فیصلے میں کہاگیا ہے کہ حکومت ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرنے کے ساتھ وفاق اور صوبوں میں نوکریوں کے حوالے سے اقلیتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے فیصلے کے مطابق مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لئے ٹاسک فورس بنانے کے ساتھ ملک بھر کے تعلیمی نصاب میں ایسی چیزیں شامل کرے جن سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو سپریم کورٹ کا محولہ فیصلہ اس امر کی نشاندہی کرتاہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمارے ہاں وفاقی وصوبائی حکومتوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے یہ درست ہے کہ آئین میں اقلیتوں کو بہت سے حقوق دیئے گئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کی صورتحال افسوسناک ہے اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیاجائے ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے خصوصی سیکورٹی پولیس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کوٹہ کے مطابق ملازمتیں فراہم کی جائیں آئین نے انہیں جو حقوق دیئے ہیں وہ عملی طور پر بھی انہیں ملنے چاہیں وفاقی وصوبائی حکومتوں کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کا پاس کرناچاہیے۔