Get Adobe Flash player

مذاکرات کی ناکامی حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کیا جائے

ایک معاصر سے انٹرویو کے دوران کالعدم تحریک طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی کے رکن اور سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملہ میں پاک فوج اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی نہ تھی جس کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے اور ختم ہوگئے تاہم طالبان نے بھی موقع کی نزاکت کا احساس نہ کیا انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگرچہ مذاکرات کے دوران فوج ہمارے ساتھ شریک رہی مگر حکومت اور فوج کے درمیان اختلاف رائے موجود رہا جسے دور نہ کیا جاسکا ان کا موقف تھا کہ مذاکرات کی ناکامی میں جہاں حکومت کی طرف سے وعدوں کو پورا نہ کرنا شامل تھا وہاں طالبان کے رویے کا بھی عمل دخل ہے رسم شاہ مہمند کا مزید کہنا تھا کہ حکومت غیر عسکری چند طالبان کو رہا کرنے کے معاملہ میں بھی بے بس ہوگئی تھی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے خالد سجنا کو حاصل کرکے فائدہ کم حاصل کیا جبکہ حافظ گل بہادر کو کھو کر نقصان زیادہ اٹھایا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت خالد سجنا کو استعمال کرتی اور اسے گل بہادر کے ساتھ جوڑ کر دونوں جگہ امن معاہدہ کرتی اور ان کی مدد سے شمالی و جنوبی وزیرستان کو کالعدم تحریک طالبان اور غیر ملکیوں سے خالی کروا لیتی مگراس نے جلد بازی میں آپریشن شروع کرکے گل بہادر کو اپنے خلاف کر لیا چنانچہ اب اس نے ضرب مومن کے نام سے اپنے دفاع کا اعلان کردیا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ خالد سجنا بھی حکومت کی طرف آنے کے فیصلے پر پچھتا رہا ہو قبائل میں بغیر تیاری آپریشن بہت بڑی غلطی ہے انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل پر مشاورت کیلئے حکومتی کمیٹی اور فوجی حکام میں بات چیت ہوتی رہی لیکن ہم ایک دوسرے کو قائل نہ کرسکے بلکہ ہمارا اختلاف رائے موجود رہا وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی مخلص تھے اور مذاکرات  برائے امن کے خواہاں تھے مگر ان کی چل نہ سکی۔رستم شاہ مہمند چونکہ تحریک انصاف کی طرف سے حکومتی کمیٹی میں نامزد کئے گئے تھے اس لیے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اندر کے واقعات درست اور صحیح طور پر بیان کرسکیں یہ بھی حقیقت ہے کہ کمیٹی کے کسی بھی رکن کو بہت سی معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی اسے وہی کچھ معلوم ہوتا ہے جس حد تک حکومت اور فوج کے حکام کی طرف سے اسے بتایا جاتا ہے رستم شاہ مہمند نے اپنے انٹرویو کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ فوج مذاکرات کے حق میں نہ تھی اور ان سے متعلقہ امور میں حکومت سے تعاون نہیں کررہی تھی اس ضمن میں انہوں نے غیر عسکری طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے حکومت کو بے بس قرار دیا ہے تاہم انہیں طالبان کی چالوں اور ان کے رویوں کا اس حد تک علم نہ تھا جس حد تک فوج کو علم حاصل ہے وہ معاملات کو اپنی محدود معلومات کی روشنی میں دیکھ رہے تھے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ مذاکرات فوج یا حکومت کے کسی رویے کے باعث آگے نہ بڑھ سکے حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے دو گروہوں کے درمیان تصادم اور ان کی شوریٰ میں انتشار کی وجہ سے مذاکرات میں تعطل آیا تھا جبکہ سیز فائر کے دوران بھی وہ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے دہشتگردی کی وارداتیں کرتے رہے اسلام آباد کچہری میں دہشتگردی کا واقعہ اسکی سب سے بڑی مثال ہے اس واقعہ کے بعد یہ ڈرامہ رچایا گیا کہ یہ کسی دوسری تنظیم نے کیا ہے اس تنظیم کے کسی جعلی ترجمان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی پاک فوج سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس نام سے دہشتگردی کی کوئی تنظیم موجود نہیں ہے میڈیا نے بھی کبھی اس ترجمان یا تنظیم کا نام نہیں سنا یہاں تک کہ طالبان کی طرف سے بھی ان کے ترجمان کا موقف تھا کہ وہ اس تنظیم کے بارے میں پتہ کرائیں گے یہ سراسر ایک ڈرامہ تھا اسلام آباد کچہری میں طالبان نے خود دہشتگردی کرائی لیکن اسے جعلی ترجمان کے ذریعے ایک جعلی تنظیم کے کھاتے میں ڈال دیا گیا جب ایک طرف مذاکرات اور بظاہر سیز فائر ہو اور دوسری طرف اس قسم کی چالیں چلی جارہی ہوں تو ایسے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی کیونکر توقع کی جاسکتی ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان کا امیر فضل اللہ مذاکرات کیلئے آمادہ ہی نہ تھا لیکن جب اس نے دیکھا کہ طالبان میں مذاکرات کے حامی گروپ بھی موجود ہیں اور اس کے مسلسل انکار کی صورت میں تنظیم ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتی ہے تو اس نے مجبوراً آمادگی ظاہر کی اسے مذاکرات یا ان کی کامیابی سے ہرگز کوئی دلچسپی نہ تھی یہ الگ بات ہے کہ مذاکرات پر رسمی آمادگی کے باوجود وہ تنظیم کو گروہ بندی سے نہ بچا سکا اور خالد سجنا نے ایک موثر گروپ کے ساتھ علیحدگی اختیار کرلی۔ مذاکرات کے حامیوں سے ابھی بھی مذاکرات کی باتیں سننے میں آرہی ہیں لیکن یہ ہتھیار پھینکنے کی صورت میں ہی ممکن ہیں تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ گزشتہ مذاکرات کے معاملہ میں متعلقہ لوگ حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کریں ان کی ناکامی کی سراسر ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے اس ضمن میں پاک فوج اور حکومت کے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔