Get Adobe Flash player

آپریشن کا پہلا مرحلہ چار سے چھ ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع

وزیراعظم محمد نوازشریف کو ان کے دورہ پشاور کے دوران فوجی حکام نے آپریشن''ضرب عضب،،کے حوالے سے جو بریفنگ دی اس میں آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کی جانے والی اطلاعات کے برعکس بہت سے پہلو نئے تھے اس بریفنگ میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کورکمانڈر پشاور اور دیگر عسکری حکام بھی موجود تھے وزیراعظم کو بتایاگیا کہ آپریشن تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے دہشت گردوں کے اہم مراکز اور مواصلاتی نظام تباہ کر دیاگیاہے اور ان کے گرد گھیرا تنگ کیاجا رہاہے اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں موجود عسکریت پسندوں کا ہر صورت خاتمہ کیاجائے حکومت مسلح افواج کو درکار تمام وسائل فراہم کرے گی ان کا کہناتھا کہ وزیرستان آپریشن سے متعلق انہوں نے صدر کرزئی سے بھی بات چیت کی ہے اور ان سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لئے کہاہے بریفنگ میں بتایاگیا کہ شمالی وزیرستان میں بڑی تعداد میں ازبک جنگجو موجود ہیں جبکہ بڑی تعداد میں جنگجو افغانستان فرار ہوچکے ہیں یہ بھی بتایاگیا کہ فوج کو آئندہ چند دنوں میں مزید کامیابیاں ملیں گی سیکورٹی فورسز مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں وزیراعظم کو بتایاگیا کہ شمالی وزیرستان میں ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ اور آئی ایم یو کا نیٹ ورک بھی موجود ہے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے فورسز بھرپور کارروائیاں کررہی ہیں آپریشن کا پہلا مرحلہ چار سے چھ ہفتوں پر مشتمل ہے ابھی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی دیسی ساختہ بم بنانے کی بڑی بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جنھیںآہستہ آہستہ تباہ کیاجائے گا وزیراعظم کو یہ بھی بتایاگیا کہ آپریشن میں پاکستان کے بنائے ہوئے ڈرونز بھی استعمال کئے جارہے ہیں جو غیر مسلح ہیں اورجاسوسی کے مقاصد کے لئے استعمال ہورہے ہیں پشاور میں وزیراعظم کو دی جانے والی بریفنگ راولپنڈی میں سینئر صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ سے قدرے مختلف تھی ہم اس موقع پر متعلقہ حکام کو اس طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی ہلاکتوں ان کے ٹھکانوں اور گولہ بارود کی تباہی کے حوالے سے اعدادوشمار غیر معمولی تصدیق کے بعد میڈیا کو جاری کئے جانے چاہیں بہت سی فوجی اصطلاحات اگرچہ اپنے مفاہیم کے اعتبار سے درست ہوتی ہیں مگر عوام بھی ابہام کا باعث بنتی ہیں اس لئے یہ لازمی ہے کہ سادہ انداز میں اس طرح جاری کی جائیں تاکہ وہ عوام جو دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پرعزم اور پر امید ہیں حقائق کا ادراک کرسکیں لاعلمی اور ابہام بہت سے سوالوں کا باعث بنتے ہیں اس تناظر میں عوام یہ استفسار کرنے میں حق بجانب ہیں کہ دہشت گردوں کی بڑی تعداد کو افغانستان کی طرف فرار ہونے کا موقع کیسے مل گیا آپریشن سے قبل اس حوالے سے کیا حکمت عملی مرتب کی گئی تھی جو کامیاب ثابت نہ ہوسکی؟