Get Adobe Flash player

طاہر القادری کی سیکورٹی کو لاحق خطرات اور حکومت کی موثر حکمت عملی

آخر کار پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سرپرست ڈاکٹر طاہرالقادری کینیڈا سے لاہور میں اپنی رہائش گاہ واپس پہنچ گئے ان کا کہنا ہے کہ اب وہ جانے کے لئے نہیں آئے ملک میں انقلاب برپا کرکے دم لیں گے کاش انہوں نے وطن واپسی کے موقع پر کینیڈا کی شہریت سے دستبرداری کا اعلان بھی کر دیا ہوتا شہریت کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری عارضی طور پر پاکستان آئے ہیں اور جلد ہی وہ لوٹ جائیں گے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے گزشتہ روز بجا طور پر نقطہ اٹھایا کہ ان کے فہم سے یہ بالاتر ہے کہ وہ لاہور کے بجائے اسلام آباد اترنے کے خواہاں کیوں ہیں؟ وزیر داخلہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ان سے بہتر کون جاسکتا ہے کہ اسلام آباد اترنے کی ان کی خواہش کے پیچھے کون سے عزائم کار فرما تھے؟ انہوں نے پنجاب کے مختلف شہروں سے اپنے کارکنوں کو درجنوں بسوں کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی تھی جبکہ وہ خود اپنے ساتھ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو بھی لائے ہیں ان کا پروگرام تھا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر ان کا زبردست استقبال ہوگا اور اس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں اسلام آباد سے لاہور جائیں گے اور اپنی سیاست کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کریں گے چوہدری برادران کی طرف سے بھی انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جی ٹی روڈ پر ان کے لاتعداد کارکن بھی ان کے جلوس میں شامل ہوں گے اور اس طرح یہ جلوس رات بھر پنجاب اور وفاقی حکومتوں پر بے بنیاد الزام تراشی کرتا ہوا بیس بائیس گھنٹوں کے بعد لاہور پہنچے گا لیکن جلوس کی قیادت کے شوق میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ ان کے جلوس کو دہشت گردی کے خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں مگر پنجاب حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح علم تھا دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیوں کے بعد وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سیکورٹی کے معاملے میں بہت مستعد اور چوکس تھی جس طرح شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن ''ضرب عضب'' تیزی سے کامیابیوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب تک پانچ سو کے لگ بھگ دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اس پر دہشت گردوں کی طرف سے کہیں بھی جوابی ردعمل کی توقع کی جاسکتی ہے ڈاکٹر طاہر القادری کو اگر جلوس کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور تک آنے کی اجازت دی جاتی تو یہ جلوس دہشت گردوں کے لئے سب سے زیادہ آسان ٹارگٹ ہوسکتا تھا عین ممکن تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ماضی کی طرح بلٹ پروف کنٹینر یا گاڑی میں ہوتے مگر ان معصوم کارکنوں کی سیکورٹی کی کیا ضمانت تھی جو جلوس کے ہمراہ ہوتے اور ممکنہ دہشت گردی کا نشانہ بنتے' اس تناظر میں حکومت کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے طیارے کو اسلام آباد کے بجائے لاہور لے جانے کا فیصلہ بے حد مناسب اور دانشمندانہ تھا لاہور ائیرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جس قسم کے مطالبات رکھے ان کا کوئی بھی جواز نہ تھا بہتر یہی تھا کہ وہ ملکی حالات کی نزاکت کا پاس کرتے ہوئے فوری طور پر اپنی گاڑی اور محافظوں کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ پہنچ جاتے مگر یہاں بھی انہوں نے سیاست کرنے کی کوشش کی ان کے مطالبات میں ایک یہ بھی تھا کہ ان کو کور کمانڈر لاہور سے ملاقات کرائی جائے کیا اس قسم کے مطالبہ سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ان کے سارے اقدامات اور رویوں کے پیچھے فوج کی شہہ موجود ہے؟ ہم سمجھتے ہیں پاک فوج کی طرف سے بھی ڈاکٹر طاہر القادری سمیت بعض سیاستدانوں کی طرف سے دئیے جانے والے اس تاثر کی سختی سے مذمت کی جانی چاہیے اس قسم کے تاثر سے پاک فوج کی ساکھ پر حرف آنے کا خدشہ بھی موجود ہے ملک بھر کے سنجیدہ حلقے یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ ان حالات میں جب قوم اور پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ڈاکٹر طاہر القادری نے وطن واپس آنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا اور جو ڈرامہ رچایا کیا یہ قومی تقاضوں کے مطابق ہے یا دہشت گردی کے خلاف قوم اور پاک فوج کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے؟ ہم اس بارے میں کوئی بھی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں قوم بہت باشعور ہے وہ خوب اچھی طرح جانتی ہے کہ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کا کیا کردار ہونا چاہیے اور کون سی جماعتیں قومی امنگوں کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور کون سی اس سے پہلو تہی کر رہی ہیں جو قوم حالت جنگ میں ہوتی ہے اس کے لیڈروں کا ایسا وطیرہ نہیں ہوتا جیسا ہمارے ہاں بعض لیڈروں کا دکھائی دے رہا ہے ڈاکٹر طاہر القادری کے دل میں اگر قوم کا ذرا سا بھی درد ہے تو وہ اپنے کارکنوں کو فضول ایکسرسائز میں مصروف رکھنے کے بجائے ان کی توجہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی امداد کے مشن پر مرکوز کریں اور جلسوں جلوسوں پر کروڑوں خرچ کرنے کی بجائے وہی رقم اپنے پریشان حال ہم وطنوں کی مدد پر حرف کریں۔