حزب اختلاف کی جماعتوں کو قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے مشورے

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک بار پھر اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی وابستگی جمہوریت کے ساتھ ہے وہ اسے ڈی ریل نہیں ہونے دے گی انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگوں کو خوش فہمی ہے کہ جلسے جلوسوں سے حکومتیں نہیں جاتیں ملک کا مستقبل صرف جمہوریت سے ہے اس لئے جمہوریت کو چلنے دیا جائے ان کا کہنا تھا کہ سانحہ لاہور کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز خوش آئند ہے میڈیا کو اہم معاملات میں رپورٹنگ کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ جمہوریت کے ذریعے ہی سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج کے بجائے پارلیمنٹ میں اپنے مطالبات کی بات کریں کیونکہ پارلیمنٹ ہی مسائل کے حل کا بہترین فورم ہے انہوں نے کہا کہ جلسے جلوسوں سے ماضی میں حکومتیں گئی ہیں نہ ہی آئندہ جائیں گی حکومتیں ہمیشہ اپنی فاش غلطیوں سے جاتی ہیں اور میرے خیال میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے ابھی تک کوئی ایسی فاش غلطی نہیں ہوئی انہوں نے کہاکہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہے پرامن جلسے جلوس ہر سیاسی جماعت کا حق ہے تاہم پرتشدد جلسوں کی کسی بھی مذہب اور معاشرے میں اجازت نہیں ہے۔خورشید شاہ نہ صرف حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں بلکہ موجودہ حکومت کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے سیاسی منظرنامے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا استحکام اور خوشحالی جمہوریت سے وابستہ ہے تاہم اگر موجودہ جمہوری نظام کے کسی پہلو کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش ہے تو یقینا پارلیمانی جماعتیں مل بیٹھ کربہتری کے لئے لائحہ عمل مرتب کر سکتی ہیں اس ضمن میں تازہ مثال انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں دونوں ایوانوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ہے جس میں پارلیمنٹ کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نمائندگی دی جارہی ہے اسی طرح مزید کسی شعبے میں اصلاح اور بہتری کے لئے بھی پارلیمانی مشاورت کے اسی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ جمہوریت ہی سے ملک اور عوام کا مستقبل وابستہ ہے جمہوری تسلسل سے از خود بعض نقائص پارلیمانی جماعتوں اور قوم کے سامنے آئے ہیں جنہیں پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیاجاسکتا ہے قائد حزب اختلاف نے بجا طور پر کہا کہ پارلیمنٹ بھی ایک ایسا فورم ہے جہاں تمام مسائل حل کئے جاسکتے ہیں احتجاجی سیاست کرنے والی جماعتوں کو ان کا یہ مشورہ ہی ایک ایسا فورم ہے جہاں تمام مسائل حل کئے جاسکتے ہیں احتجاجی سیاست کرنے والی جماعتوں کو ان کا یہ مشورہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انہیں پارلیمنٹ کے اندر اپنے مطالبے اٹھانے چاہئیں اور سڑکوں کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے انہوں نے یہ کلیدی بات کہی ہے کہ جلسوں جلوسوں سے حکومتیں نہیں جاتیں بلکہ اپنی فاش غلطیوں سے جاتی ہیں اس ضمن میں جلسوں جلوسوں کے ذریعے قوم کا وقت اور وسائل کو ضائع کرنے والی جماعتوں کو انہوں نے انتہائی اہم مشورہ دیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو قائد حزب اختلاف کی محولہ باتوں پر سنجیدگہ سے غور کرنا چاہیے۔