کراچی آپریشن میں بتدریج کامیابیاں لیکن بعض کمزور پہلو

اگرچہ کراچی آپریشن پر بعض حلقوں کی طرف سے ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کی جارہی ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ یہ ناقدین وہی عناصر ہیں جن کے مفادات کو آپریشن کے نتیجے میں زک پہنچاہے جبکہ کراچی کے عوام نے سکھ کا سانس لیاہے اغواء برائے تاوان بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی سے کمی آئی ہے قبضہ مافیا اور منشیات مافیاء کا زور بھی ٹوٹاہے اور روایتی جرائم میں بھی بتدریج کمی واقع ہوئی ہے سپریم کورٹ میں پولیس حکام کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کراچی کا ایک بہتر نقشہ پیش کرتی ہے رپورٹ کے مطابق آپریشن کے بعدشہر میں قتل کی وارداتوں میں29 فیصد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں62فیصد اغواء برائے تاوان میں5 فیصد اور بھتے کی وارداتوں میں آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث225ملزمان کو گرفتار کیاگیاہے رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ2013کے دوران دہشت گردی کے باعث169 افراد جاں بحق ہوئے اور2014 میں اب تک58 افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں آپریشن کے دوران دہشت گردی میں ملوث245ملزمان گرفتار کئے گئے242جیل میں پانچ پولیس ریمانڈ جبکہ دو کی ضمانتیں ہوچکی ہیں کراچی آپریشن سے پہلے بھتہ خوری کی وارداتوں کے1235مقدمات درج ہوئے جبکہ آپریشن کے دوران1147 مقدمات درج ہوئے بھتہ خوری میں ملوث183 مقدمات میں ملوث321 ملزموں کو گرفتار کیاہے کراچی آپریشن کے بعد بھتہ خوری کے6 ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے دوران آپریشن قتل کے مقدمات میں ملوث956مفرور ملزموں کو گرفتار کیاگیا اغواء برائے تاوان109ملزمان گرفتار جبکہ اغواء برائے تاوان کے9ملزمان ہلاک ہوچکے ہیں938ملزمان کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں پیش کیاگیا خصوصی عدالتوں سے70مجرموں کو سزائیں ہوچکی ہیں قتل کے324 مقدمات میں411ملزموں کے چالان پیش کئے جاچکے ہیں ٹارگٹ کلنگ کی127 وارداتوں میں ملوث137دھماکہ خیز مواد رکھنے میں ملوث183 مقدمات میں71ملزموں کے خلاف چالان پیش ہوئے اغواء برائے تاوان کے72 مقدمات میں173 ملزمان ڈکیتی کے564مقدمات میں612ملزمان سٹریٹ کرائم کے595مقدمات میں612ملزمان غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے4956مقدمات میں3429جبکہ دیگر جرائم کے4381مقدمات3639ملزموں کے خلاف عدالتوں میں چالان پیش ہو چکے ہیں128پولیس اہلکاروں کو شہید کیاگیاہے جرائم کے محولہ اعدادوشماریہ واضح کرتے ہیں کہ اغواء برائے تاوان اور بھتے کی وارداتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے اول الذکرجرائم میں پانچ فیصد اور آخرالذکر میں آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے یہ واضح ہوتاہے کہ متمول شخصیات اور کاروباری افراد کو تاوان کے حصول کے سلسلے میں اغواء کرنے اور بھتہ خوری سے وابستہ گروپ ابھی تک موثر طور پر وارداتیں کر رہے ہیں جس معمولی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے وہ بھی اندراج مقدمہ کے حوالے سے ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ متعدد وارداتوں میں بعض لوگ اپنی سلامتی کے خوف سے بھی مقدمہ درج نہیں کرواتے کہ خدانخواستہ اس کے نتیجے میں انہیں جان سے ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں اغواء برائے تاوان کی بعض وارداتوں میں گاہے گاہے پولیس کے بعض اہلکاروں کی سرپرستی کی آوازیں بھی بلند ہوتی ہیں پولیس کے اعلی حکام کو ان آوازوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے وگرنہ یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ آپریشن کے دوران ان وارداتوں میں نمایاں کمی نہ آسکے اطمینان بخش صورتحال ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی کے حوالے سے ہے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں62فیصد کمی خوش آئند ہے اس مجموعی صورتحال کوبلاشبہ بہتری کی جانب ایک موثر قدم قرار دیاجاسکتاہے تاہم یہ ضروری ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں چالان پیش کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے خصوصی عدالتوں سے مجرموں کو سزائیں دینے کے عمل کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اطلاعات کے مطابق کراچی آپریشن کے دوران مختلف جرائم میں ملوث دس ہزار سے زائد افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاریوں کے عمل میں تیزی یقیناً آپریشن کی کامیابی ہے لیکن آپریشن کی حتمی کامیابی ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور انہیں کیفر کردارتک پہنچانے سے مشروط ہے اگر گرفتار افراد عدم ثبوت یا درج کمزور مقدمات کے باعث رہاہو گئے تو آپریشن کی ساری کامیابیاں رائیگاں جائیں گی اور کراچی ایک بار پھر جرائم پیشہ افراد کے مختلف گروہوں کے رحم وکرم پر ہوگا وزیر اعلیٰ پنجاب جن کی نگرانی اور قیادت میں آپریشن ہو رہاہے انہیں ان کی ٹیم کو آپریشن کے اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی ہوگی وزیر اعلیٰ کو گرفتار افراد کے خلاف مقدمات کے معاملے میں روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ حکام کی کارکردگی کو مانیٹرنگ کرنی ہوگی ہم سمجھتے ہیں آپریشن اب اہم اور نازک مراحل میں داخل ہو چکاہے کراچی میں موجود دہشت گرد شمالی وزیرستان کے آپریشن کے ردعمل میں کوئی بھی صورتحال پیداکر سکتے ہیں اس لئے وفاقی وصوبائی ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کو زیادہ مستعد فعال اور متحرک رہناہوگا