Get Adobe Flash player

طاہر القادری کو تصوراتی انقلاب سے نکل کر جمہوریت کی حقیقت تسلیم کرنی ہوگی

پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ اگر حکومت چاہے تو اس کے اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور پر تشدد کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے انہوں نے کہا معاملہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے حکومت نے طاہر القادری کا طیارہ ہائی جیک کر وایا ہے معاملات روز بروز خراب ہو رہے ہیں مسلم لیگ ق کے سربراہ نے حکومت اور طاہر القادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے اگر وہ پل کا کردار ادا کرنے کی بجائے طاہر القادری کو شہ دینی چھوڑ دیں تو طاہر القادری اپنی حقیقی پوزیشن پر آ جائیں گے سیاسی حلقوں کی رائے یہی ہے کہ مسلم لیگ ق کے رہنمائوں نے خاص طور پر لندن جا کر طاہر القادری کے ساتھ مذاکرات کے بعد جو اتحاد کیا وہ نیک نیتی کی بنیاد پر نہیں ہے اس کا مقصد موجودہ حکومت کو عدم استحکام سے دو چار کرنا ہے جہاں تک چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے حکومت اور طاہر القادری کے درمیان پل بننے کی پیشکش کا تعلق ہے بادی النظر میں ہر دو کے درمیان کوئی ایسا مسئلہ موجود نہیں ہے جو مذاکرات کا متقاضی ہو ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی ان کی تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں پر مشتمل ہے جس کا کوئی پارلیمانی وجود نہیں ہے جبکہ مرکز اور صوبوں میں مختلف حکومتیں عوامی مینڈیٹ کے نتیجے میں قائم ہو گئیں جو اپنا آئینی کردار خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں طاہر القادری اگر آئین کی بالا دستی اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں اگلے انتخابات تک انتظار کرنا ہو گا اس دوران وہ اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کریں اور اسے اس جمہوری اسلوب سے آشنا کریں جو سیاسی جماعتوں کے کردار کا تقاضاہوتا ہے مگر انکامسئلہ تو یہ ہے کہ وہ اگلے انتخابات کا انتظار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور اپنی اس محدود سی جماعت کے ذریعے فوری انقلاب لانے کا شوق رکھتے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کو اسکی آئینی مدت دینا تو درکنار اسے تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں ان کے اس موقف کی روشنی میں ان سے کسی مکالمے کی توقع عبث ہے پاکستان کے عوام جمہوری نظام کو مضبوط دیکھنے کے خواہاں ہیں اور وہ کسی کو اسے عدم استحکام سے دو چار کرنے اجازت نہیں دیں گے طاہر القادری کی ماضی کی سیاست جن تضادات سے دوچار رہی ہے اس کے پیش نظر ان سے جمہوری سیاست میں کسی بھی مثبت رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت پر ان کا اعتماد شخصیات سے دوچار ہے وہ انقلاب کی کسی تصوراتی دنیا میں محصور ہیں اور اپنے آپ کو قائدانقلاب قرار دیتے ہیں جبکہ معروضی حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے عوام جمہوریت کے استحکام کیلئے کوشاں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری تسلسل ہی اس نظام کو مزید بہتر بنانے اور اس کے نقائص کو دور کرنے کا باعث بن سکتا ہے اس لئے اس تسلسل کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ۔