Get Adobe Flash player

قانون کی بالادستی قائم کئے بغیر جمہوری استحکام ممکن نہیں

 وزیراعظم محمدنوازشریف نے گورنر پنجاب محمد سرور سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر واضح طور پر کہاہے کہ ملک محاذ آرائی ٹکرائو اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا مسلم لیگ ن کی حکومت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو بحرانوں سے نجات دلا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت کومضبوط کر کے عوام کو خوشحال بنائیں گے وزیراعظم نے طاہر القادری کے معاملے میں گورنر کے مثبت کردار اور معاملہ حل کرنے کے سلسلے میں ان کے کردار کی تعریف کی دریں اثناء گورنر پنجاب کی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور طاہر القادری کے ساتھ ملاقاتوں کے نتیجے میں طاہر القادری کے بعض جائز مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں جن کے نتیجے میں ایم پی او کے تحت عوامی تحریک کے گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ یہ بھی طے پایاہے کہ طاہر القادری کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی تاہم صوبائی حکومت کی طرف سے واضح کیاگیاہے کہ جن کارکنوں کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان کا فیصلہ عدالتیں کریں گی جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے سیکرٹری صحت کو عوامی تحریک کے زخمی کارکنوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں میں مزید بہتری لانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے صوبائی حکومت نے درست فیصلے کئے ہیں طاہر القادری کی سلامتی کو اگر خطرات درپیش ہیں تو حکومت کی ذمے داری ہے کہ ان کی سیکورٹی کا فول پروف انتظار کرے سولہ ایم پی او کے تحت گرفتار کارکنوں کی رہائی کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے جس طرح لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنوں پر سیدھی فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار قانون کی گرفت میں ہیں اسی طرح اسلام آباد میں جن سینکڑوں ڈنڈا برادر کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں لایاجاناچاہیے قانون کی حاکمیت قائم کرنا بہت ضروری ہے جن کارکنوں نے قانون کو ہاتھ میں لیاہے اور قانون کے محافظوں کو زخمی کیاہے وہ کسی رورعایت کے مستحق نہیں ہیں گھروں سے ڈنڈوں سے لیس ہو کر آنے والوں کی نیت ہی یہ تھی کہ انہوں نے قانون کی دھجیاں اڑانی ہیں چنانچہ انہوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایئرپورٹ کے اندر داخلے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے پولیس اہلکاروں پر حملے کئے اس لئے یہ لازم ہے کہ قانون و انصاف کے تحت انہیں ایسا سبق سکھایاجائے تاکہ اس کے بعد کوئی کارکن پولیس اہلکاروں پر حملے کی جرات نہ کر سکے قانون سے تجاوز کرنے والا سویلین ہو یا کوئی پولیس اہلکار کسی سے کوئی امتیاز نہ برتا جائے سب کو قانون کے تحت سزا ملنی چاہیے۔وزیراعظم نے سیاسی مکالمے اور تحمل کی سیاست کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیاہے ان کی اہمیت وافادیت سے قطعاً انکار ممکن نہیں ہے لیکن سیاسی سرگرمیوں یا اظہار رائے کی آزادی کو قانون کے دائرے میں بھی ہوناچاہیے حکومت کو طاہر القادری یا کسی بھی دوسرے لیڈر کی کسی اشتعال انگیز تقریر سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے عام طور حکومت کی چشم پوشی ہی سیاسی رہنمائوں کے سراسر منفی رویوں کی توسیع کا باعث بنتی ہے جبکہ اس چشم پوشی سے حکومت کی کمزور پوزیشن کا تاثر بھی ملتاہے جن ملکوں میں جمہوریت بہت مضبوط اور مثالی ہے وہاں بھی ارباب سیاست اور ارباب میڈیا قانون کے تابع ہیں جونہی ان کی کوئی سرگرمی قانون سے تجاوزکرتی ہے فوراً قانون حرکت میں آ جاتاہے موجودہ حکومت جمہوری استحکام کی خواہش کرتی ہے بلاشبہ اس خواہش میں پوری قوم حکومت کے ساتھ ہے لیکن اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جاناچاہیے کہ جمہوریت محض سیاسی جماعتوں کو جلسوں جلوسوں کی کھلی چھٹی دینے سے مضبوط نہیں ہوتی ہر آزادی ذمے داری سے مشروط ہے اور ہر سیاسی جماعت یا شہری ریاستی قوانین کے تابع ہے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے بغیر جمہوری استحکام کا تصور نہیں کیاجاسکتا آئین وقانون کی عمل داری جتنی جمہوری نظام میں موجود ہے کسی دوسرے نظام میں نہیںہے بادشاہت اور فوجی آمریت میں فرد کی خواہش اور حکم آئین وقانون کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ اس کے برعکس جمہوریت میں عوام کے منتخب نمائندے قانون سازی کرتے ہیں اور یہ قوانین کسی ایک فرد یا طبقے کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اگر ہم جمہوری استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بلا امتیاز قانون کی حکمرانی قائم کرنی ہوگی قانون کی حکمرانی کرنے سے نہ صرف سیاست کو انارکی اور انتشار کی جانب بڑھنے سے روکا جاسکتاہے بلکہ ملک میں بدعنوانی کے خاتمہ امن وامان کے قیام اور گڈ گورننس کی جانب بھی تیزی سے پیش رفت کی جاسکتی ہے۔