کیا صوبائی کل جماعتی کانفرنس کا مقصد آپریشن کی مخالفت تو نہیں؟

خیبر پختونخوا کی حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن اور نقل مکانی کے مسائل پر غور کے لئے28جون کو کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیاہے سینئر صوبائی وزیر اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسمبلی میں ضمنی بجٹ پر بحث کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس میں آپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیاجائے گا اور آئندہ لائحہ عمل طے کیاجائے گا انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر قبائل کو ملک کے کسی بھی حصے میں جانے کا حق حاصل ہے اور چارسدہ سے ان کو نکالنے کا نوٹس لیناچاہیے انہوں نے کہا کہ ماضی میں فاٹا کو نظر انداز کیاگیا وفاق کو فاٹا کے لئے ایک سو ارب روپے کا خصوصی پیکج دیناچاہیے انہوں نے نقل مکانی کرنے والوں کے لئے امداد کو ناکافی قرار دیا۔خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر کی طرف سے صوبے کی سطح پر جس کل جماعتی کانفرنس کا اعلان کیاگیاہے اگرچہ اس کا ایجنڈا آپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور وخوض کرنا ہے تاہم بعض حلقوں کے ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ اس ایجنڈے کی آڑ میں آپریشن پر تنقید کی جائے گی اور اسے بلا جواز اور بے وقت قرار دیاجائے گا ان خدشات کی وجہ یہ ہے کہ کل جماعتی کانفرنس جماعت اسلامی کے امیر اور صوبے کے سینئر وزیر کی ذہنی اختراع کا نتیجہ ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جماعت اسلامی طالبان کے لئے بے حد نرم گوشہ رکھتی ہے اور ان کے زبردست حامیوں میں شامل ہے یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے اس کے سابق امیر نے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں اور پاکستان کے عوام پر حملے کرنے والے حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد انہیں''شہید،،قرار دیا تھا جس پر ملک بھر سے شدید ردعمل ہوا تھا طالبان سے اس جماعت کی قربتوں کا اس بات سے بھی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس کے ایک رہنما پروفیسر ابراہیم کو طالبان نے اپنی کمیٹی کا ممبر نامزد کیاتھا اس تناظر میںاس امر کے امکانات موجود ہیں کہ امیر جماعت اسلامی جو صوبے کے سینئر وزیر ہیں صوبائی حکومت کو محض اپنے جماعتی مفادات کے لئے استعمال کریں گے اسی باعث انہوں نے ایجنڈے میں آپریشن پر غور وخوض بھی شامل کیاہے ہم سمجھتے ہیں خیبر پختونخوا کی حکومت کو آپریشن پر بحث کرنے کا حق نہیں ہے وفاقی حکومت نے کل جماعتی کانفرنس کے تحت مذاکرات کی ناکامی کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیاہے اس لئے ایجنڈے کا موضوع متاثرین شمالی وزیرستان کی امداد اور انہیں سہولتوں کی فراہمی تک محدود ہوناچاہیے یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تحریک انصاف نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی حمایت کی ہے اس لئے صوبائی وزیر کو تحریک انصاف کے اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش سے گریز کرناچاہیے ۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی اور تحریک انصاف کے قائد کو اپنے سینئر وزیر اور امیر جماعت اسلامی کے طرزعمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیناہوگا۔