جلسوں جلوسوں سے جمہوری حکومتیں تبدیل نہیں ہوتیں

تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے چار حلقوں سے ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر اسمبلیوں سے استعفے دینے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیاہے تاہم پارٹی نے طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کی تجویزکو مسترد کر دیاہے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ اگر حکومت نے چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کا مطالبہ پورا نہ کیا تو عید کے فوراً بعد حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیاجائے گا تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہناہے کہ اگرچہ طاہر القادری کے ساتھ کچھ باتوں پر ان کا اتفاق ہے لیکن تحریک انصاف ان کے ساتھ حکومت مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی تحریک نے حکومت کو انتخابی حلقے کھلوانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دی ہے مہلت کے خاتمہ پر حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی یہ بھی کہاگیاہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کیاجائے گا۔تحریک انصاف کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے چار حلقوں این اے110سیالکوٹ این اے118لاہور این اے122 لاہور اور این اے154 عام انتخابات کے دوران دھاندلی ہوتی ہے اس لئے ان حلقوں کے بیلٹ باکس کھول کر تحقیقات کروائی جائے اور انگوٹھوں کی تصدیق کروائی جائے اجلاس میں وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لئے چھ ارب روپے کی امداد فوری طور پر جاری کرے۔تحریک انصاف کا بڑا ایشو چار حلقوں کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مطالبے کا تعلق حکومت سے ہرگز نہیں ہے انتخابی دھاندلیوں سے متعلق شکایات پر کسی بھی متاثرہ فریق کو الیکشن کمیشن اور ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں تحریک انصاف کے حکومت سے مطالبے میں کوئی منطق اور وزن نہیں ہے اسے متعلقہ فورم سے رجوع کرناچاہیے اگر متعلقہ فورم کسی حلقے میں ووٹوں کی ازسر نو تصدیق کی ہدایت کرتاہے تو حکومت سمیت کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگایہ ایک واضح بات ہے کہ مرکز اور صوبوں میں غیرجانبدار نگران حکومتوں اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت عام انتخابات منعقد ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر الیکشن کمیشن نے متعلقہ امیدواروں کی شکایات کا ازالہ بھی کیاہے مبینہ انتخابی دھاندلی کے سلسلے میں اب تک جو داد رسی ہوئی ہے وہ الیکشن اور عدلیہ نے کی ہے اس لئے اس پس منظر میں کسی پارٹی کا حکومت سے مطالبہ ناقابل فہم ہے تحریک انصاف کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے جس کے تحت اس نے طاہر القادری کے ساتھ حکومت مخالف اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کیاہے تاہم حکومت کو چارہفتوں کی مہلت اور اس کے بعد اس کے خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ تعجب کا باعث ہے چار ہفتوں کی مہلت غالباً اس لئے دی گئی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مظاہروں جلسوں اور دھرنوں کاانتظام نہیں کیاجاسکتا مسئلہ چار ہفتوں یا اس کے بعد کی صورتحال کا نہیں بلکہ حقائق کے اعتراف کا ہے حکومت مخالف جلسوں اور جلوسوں سے اگرچہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتاہے لیکن ان کے نتیجے میں کسی حکومت کو تبدیل نہیں کیاجاسکتا جمہوریت میں جلسوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا کوئی آئینی راستہ رکھاہے اور وہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہے تحریک انصاف سمیت کوئی بھی جماعت آئین اور جمہوریت کے بتائے ہوئے اس راستے پر عمل کرسکتی ہے لیکن اسے مملکت جمہوریت اور عوام کے مفاد میںسڑکوں پر انتشار اور افراتفری کی سیاست سے گریز کرناہوگا تحریک انصاف نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اس کے ارکان اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے جمہوریت پر یقین کے دعوے کرنے والی جماعت کی طرف سے استعفے کی بات سراسر نامناسب ہے خصوصاً ان حالات میں جبکہ خیبر پختونخواہ میں وہ برسر اقتدار ہے دوسرے لفظوں میں کیا وہ خیبر پختونخواہ کے عوام پر یہ باور کراناچاہتی ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کی طاقت اور حکمت عملی نہیں رکھتی ہمارے نزدیک اس قسم کا انداز فکر جمہوری رویوں اور اقدار کے سراسر منافی ہے ہر سیاسی جماعت ہمیشہ اس جدوجہد میں مصروف رہتی ہے کہ وہ اپنے منشور اور پالیسیوں کے باعث زیادہ سے زیادہ عوام کی توجہ حاصل کرے اسے جتنا بھی مینڈیٹ ملتاہے اسے وہ مستحکم کرنے اور مزید مینڈیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حکومت کرنے کا جو مینڈیٹ ملا ہے اسے وہ اپنی غیر معمولی کارکردگی کے باعث وسعت دے سکتی ہے لیکن اسمبلیوں سے اس کے استعفے کامطلب اس مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہوگا تحریک انصاف کو بامعنی اور بامقصد سیاست کرنی چاہیے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ جن عوام نے اسے مینڈیٹ دیاہے وہ ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔