عمران خان کے بیان پر خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید ردعمل

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کی دھمکی کے خلاف خیبر پختونخواہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کا شدید ردعمل سامنے آیاہے گزشتہ روز نہ صرف اپوزیشن کے ارکان نے عمران خان کے اس حوالے سے بیان پر شدید احتجاج اور ایوان سے علامتی واک آئوٹ کیا بلکہ عمران خان کے خلاف تحریک استحقاق بھی جمع کرا دی اپوزیشن عمران خان کے بیان پر اس حد تک مشتعل تھی کہ سرکاری پارٹی کے کسی رکن کی کوئی بھی وضاحت سننے کے لئے تیار نہ تھی جے یو آئی ف کے رکن منور خان کا موقف تھا کہ عمران خان بار باراسمبلی توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں اسمبلی ان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے ارکان عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی تک اجلاس میں نہیں بیٹھیں گے یہ امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے بیان میں مخالفت میں پیپلز پارٹی جے یو آئی ف اور اے این پی سمیت اپوزیشن کے ارکان متحد تھے چنانچہ سب نے واک آئوٹ میں حصہ لیا اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ عمران خان کا بیان جمہوریت کو ڈیل ریل کرنے کے مترادف ہے ان کے اس قسم کے رویے سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا ان کا بیان غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی ہے ایک قومی لیڈر کو اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتیں اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف جمع کرائی جانے والی تحریک استحقاق میں کہاگیاہے کہ عمران خان کو اسمبلی توڑنے یا اس قسم کی دھمکیاں دینے کا اختیار نہیں ہے ان کی طرف سے بار بار اسمبلی توڑنے کی دھمکی عوامی نمائندوں اور اس ایوان کی توہین ہے ان کا غیر سنجیدہ رویہ جمہوریت کے منافی ہے۔یاد رہے کہ عمران خان نے دو روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ اگر انصاف نہ ملا تو خیبر پی کے حکومت کو توڑ کر سڑکوں پر نکلیں گے اس کا ٹائم فریم بہاولپور کے جلسے میں دیں گے انصاف کے لئے خیبر پختونخواہ اسمبلی توڑ سکتا ہوں اس میں شک نہیں کہ عمران خان تحریک انصاف کے قائد ہیں لیکن ان کا صوبائی اسمبلی میں کوئی منصب نہیں ہے اور وہ کسی حکومتی منصب پر بھی فائزنہیں ہیں اس لئے بذات خود وہ اسمبلی توڑنے یا حکومت ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے البتہ اپنے وزیر اعلیٰ اور وزراء کو استعفے دینے کے لئے کہہ سکتے ہیں تاہم انہیں اپنی پارٹی کے علاوہ دیگر ارکان اسمبلی کو ان کے مینڈیٹ سے محروم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جے یو آئی ف کے منور خان کا یہ کہنا درست ہے کہ اسمبلی ان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے کہ جس کے وہ تنہا فیصلے کرتے رہیں صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کی باتیں دراصل صوبے میں ان کی مایوس کن کارکردگی کا نتیجہ ہے نعرے لگانے والی پارٹی کے پاس اگر صوبے کے عوام کے لئے ٹھوس پروگرام موجود ہے تو اسے ان کے مسائل حل کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے اسمبلی توڑنے یا حکومت کے مستعفی ہونے کی باتیں تحریک انصاف کی بے عملی اور ناکامی کا ثبوت ہیں۔