انقلابی پالیسیوں کے ذریعے استحصالی نظام کا خاتمہ ممکن ہے

پاکستان کی سیاست میں انقلاب کی اصطلاح کو تواتر اور شدت کے ساتھ استعمال کیاگیا مروجہ معانوں میں انقلاب استحصالی اور استعماری نظام کے خاتمے کا نام ہے بعض حلقوں کا یہ تاثر درست نہیں کہ جمہوری نظام کے ذریعے انقلاب نہیں لایاجاسکتا اور اس کے لئے روایتی جمہوریت سے ہٹ کربعض اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حکمرانوں کی نیت پر منحصر ہے اگر کوئی منتخب حکومت ملک سے استحصالی نظام کے خاتمے کی خواہاں ہے اور طبقاتی کشمکش اور امتیاز کو مٹانے اور مراعات یافتہ طبقات اشرافیہ کے کردار کو محدود کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو اس کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی لیکن اگر اس کے برعکس کوئی جمہوری حکومت ایوانوں میں موجود جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پالیسیاں وضع کرتی ہے اور عوام کو محض معمولی سبسڈی اور ریلیف کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے اس کردار کو یقیناً عوام کے مینڈیٹ سے بیوفائی کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیاجاسکتا عوام ووٹ اور مینڈیٹ کے ذریعے درحقیقت حکومت کو انقلاب یعنی استحصالی نظام کو تبدیل کرنے اور قومی خواہشات کے مطابق پالیسیاں وضع کرنے کا اختیار دیتے ہیں اگر منتخب حکومت اس اختیار کو اکثریتی عوام کے بجائے مخصوص طبقات کے مفادات کو محفوظ بنانے کے لئے استعمال کرتی ہے تو یہ جمہوری رویوں کی سراسر نفی ہے جمہوری رویے جمہور کے ساتھ سماجی ومعاشی انصاف کا تقاضا کرتے ہیں کسی اقلیتی گروپ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے وزیراعظم محمد نوازشریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میںقرضہ حسنہ اسکیم کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت اور آئین سے وابستہ ہے جس کا تحفظ عوام کریں گے ان کا کہناتھا کہ ہمارے دور میں ہی پاکستان کی قسمت بدلے گی کھوکھلے نعروں والے پھر مستردہوں گے انقلاب صرف الیکشن سے ہی آئے گا انہوں نے بجا طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے جسے انقلاب کے تناظر میں بے حد اہمیت حاصل ہے یہ بھی واضح رہے کہ عام طور پر انقلاب خانہ جنگی اور خونریزی کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں سسٹم کی تبدیلی کے لئے تحریکیں چلتی ہیں لاتعداد لوگ ان میں ریاستی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اس کے بعد ہی سسٹم کی تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے مگر جمہوری نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی پرامن انقلاب کے امکانات روشن ہوتے ہیں ان امکانات کو یقینی بنانا منتخب حکومت کی پالیسیوں پر منحصر ہے کہ ان کا رخ کس طرف ہے عوام یا مخصوص طبقات کے مفادات کی جانب بلاشبہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے مملکت کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور جمہوری اقدار کے استحکام کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس نے ایک سال کے مختصر عرصے میں حیران کن کامیابیاں حاصل کی ہیں عالمی سطح پر بھی اس کی ان کامیابیوں کا اعتراف کیا جارہاہے لیکن اس کے باوجود ہم حکومتی اقدامات کو انقلابی اقدامات سے تعبیر نہیں کرسکتے اس لئے کہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے سسٹم میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں دکھائی دیتے یہ جاگیرداروں سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں جب تک مراعات اور مفادات کا رخ عوام کی جانب نہیں موڑ دیاجاتا اور طاقت کے روایتی مراکز یعنی جاگیرداری سرمایہ داری اور مراعات یافتہ طبقات کو کمزور نہیں کیاجاتا اس وقت تک معاشرے میں کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی وزیراعظم نوازشریف جنھیں تیسری بار وزارت عظمےٰ کا منصب ملا ہے ان کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ روایتی طریقے سے حکومت چلائیں نہ ان روایتی پالیسیوں کا سہارا لیں جن سے عوام ہمیشہ نالاں رہے ہیں انہیں انقلابی اندازفکر کے ساتھ کام کرنا ہوگا قومی اسمبلی میں انہیں جو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اس کے ذریعے وہ روایتی نظام کو تبدیل کر کے اس میں انقلابی روح پیدا کر سکتے ہیں تاہم اس کے لئے انہیں جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کی پشت پناہی چھوڑ کر عوام کے ساتھ مکمل وابستگی اختیار کرنی ہوگی ان کی پالیسیاں اور کارکردگی جمہوری نظام اور اس کی ساکھ کو مضبوط کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور عوام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جمہوری سسٹم سے بے زار بھی کرسکتی ہیں اب یہ ان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کس انداز سے پیش رفت کرتی ہے اور اس کی پالیسیاں کس سمت آگے بڑھتی ہیں۔