دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں افغانستان کا مسلسل عدم تعاون

افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر رنگین داد فر نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز سمیت متعددشخصیات سے ملاقاتیں کیں ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی کے امور پر تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال ہوا پاک فوج کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد افغان کے سلامتی کے مشیر کا دورہ یقیناً مذکورہ آپریشن کے تناظر میں بے حد اہمیت کا حامل ہے اطلاعات کے مطابق افغان مشیر پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے واضح کیا کہ حکومت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کا امتیازی رویہ اختیار نہیں کرے گی تاہم افغانستان کو بھی اس آپریشن کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے سلسلے میں اپنے حصے کاکردار ادا کرنا ہوگا اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو افغان حکومت کی طرف سے کسی قسم کا تحفظ فراہم نہ کیاجائے بلکہ انہیں ہلاک یا گرفتار کیاجائے جبکہ شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان سرحد کو بھی بند کیاجائے پاکستان کی طرف سے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیاگیا کہ کنڑ اور نورستان میں فضل اللہ گروپ کے ٹھکانوں پر کارروائی کی جائے اور ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کیاجائے اگرچہ افغان مشیر کی جانب سے پاکستان کے موقف اور مطالبات پر مثبت رویے کا مظاہرہ کیاگیاتاہم دیکھنا ہوگا کہ ان کے کابل پہنچنے کے بعد حکومت پاکستان کو دی جانے والی ان کی یقین دہانیوں پر کس حد تک عمل درآمد ہوتاہے غور طلب بات یہ ہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نوازشریف نے صدر حامد کرزئی کے نام اپنے خط میں ان سے کہاتھا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال نہ کیاجائے اور پاکستان کے مفرور دہشت گردوں کو اس کے سپرد کیاجائے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اور ممتاز سیاستدان محمود خان اچکزئی نے بھی کابل میں صدر کرزئی اور بعض دیگر حکام سے اسی موضوع پر ملاقاتیں کی تھیں اب افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین داد فر کے دورہ پاکستان کے موقع پر ایک بار پھر انہی امور پر تبادلہ خیال کیاگیاہے اس موقع پر جبکہ دہشت گردوں کے ایک اہم مرکز کے خلاف پاکستان نے زبردست آپریشن کا آغاز کر دیاہے اگر افغان حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے گریز کی روش جاری رہی تو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پراس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ افغانستان کو تجارتی ومعاشی امور میں شدید نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔