بھارتی وزیر خارجہ کا مثبت انداز فکر اور خارجہ سیکرٹریوں کی مجوزہ ملاقات

نئی دہلی سے یہ خوش کن اطلاع سامنے آتی ہے کہ طویل تعطل کے بعد اگست میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات طے پائی ہے چنانچہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سے مذاکرات کیلئے بھارت کی سیکرٹری خارجہ سجاتا سنگھ اگست کے پہلے ہفتے میں پاکستان آئیں گی یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل بھارت کی خارجہ سیکرٹری سجاتا سنگھ نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی تھی اس ملاقات کے دوران جنوبی ایشیاء کے امور پر بات چیت کی گئی خصوصاً پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد یہ طے پایا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں بھارت کی سیکرٹری  خارجہ سجاتا سنگھ اعلیٰ سطح کے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئیں گی جہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے مذاکرات کریں گی پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی مجوزہ ملاقات کے حوالے سے اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ جامع مذاکرات کی بحالی کے معاملہ کا جائزہ لینے کیلئے پہلے مرحلے میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹری مذاکرات کریں گے ادھر ڈھاکہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اگرچہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کی خواہش ظاہر کی ہے تاہم یہ کہا ہے کہ مذاکرات کا بگل اور دھماکوں کی آواز ایک ساتھ نہیں چل سکتے بات چیت کیلئے پر امن ماحول اور سازگار  فضا لازمی ہے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے بھارت کی نئی حکومت خطے میں نئی اور مثبت تبدیلی کیلئے پر امید ہے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں سے تعلقات کا نیا دور شروع کرنے کا خواہاں ہے جس میں امن کیلئے کوشش کی جاسکتی ہیں تاہم مذاکرات اور تشدد ایک ساتھ نہیں چل سکتے ان کا کہنا تھا کہ تشدد آمیز ماحول میں مذاکرات نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل ممکن نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے ماحول میں مذاکرات ہوں اور مسائل کو ایک ایک کرکے حل کرنے کی کوشش کی جائے بھارت مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے اسی باعث وہ پڑوسی ممالک سے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کی کوشش کررہا ہے اس ضمن میں پڑوسی ممالک کی جانب سے بھی مثبت ردعمل لازمی ہے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نہ صرف خطے میں امن کی خواہاں ہے بلکہ ہم سارک ممالک میں بھی امن کے حامی اور تشدد کے خلاف ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ کا انداز گفتگو اور لب و لہجہ نئی بھارتی حکومت کے مثبت احساسات کو ظاہر کرتا ہے ان کا یہ طرز فکر بلا شبہ حقیقت پسندانہ ہے کہ مسائل کو ایک کر کے حل کیا جاسکتا ہے اور دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ہم ان کے اس موقف کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تشدد کبھی بھی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے یقینا بھارتی وزیر خارجہ پاکستان کے خیر سگالی جذبات کی بھی عینی شاہد ہیں جن کا مظاہرہ اس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برادری کے موقع پر کیا تھا اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم کی گرمجوشی اور ان کے بامعنی مذاکرات نے دونوں ملکوں کے عوام کو یہ پیغام دیا تھا کہ جس کشیدگی نے ہمیشہ ان کی خوشحالی کو یرغمال بنائے رکھا اب اس کے چھٹنے کے دن آچکے ہیں خطے کے امن اور دونوں ملکوں کے عوام کے خوشحال مستقبل کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تصفیہ طلب امور بات چیت کے ذریعے حل کریں اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پاکستان اور بھارت کی دونوں حکومتیں باہمی تعلقات کے ایک نئے دور کے آغاز پر متفق ہیں اور خارجہ سیکرٹریوں کی مجوزہ ملاقات بھی  اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اس تناظر میں یہ لازم ہے کہ ماضی کے تلخ واقعات کو یکسر فراموش کرکے نئے عزم کے ساتھ تعلقات کے نئے سفر کا آغاز کیا جائے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں بہت ساکام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ آمدرفت کو وسعت دینے کے سلسلے میں ویزوں کے اجراء کی پالیسی بھی خاصیسہل کی جاچکی ہے اور کامیابیوں کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے دو طرفہ مذاکرات اور رابطوں میں تیزی اور وسعت نہ صرف خطے بلکہ دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں ہے۔