الیکٹرانک میڈیا کیلئے قومی امنگوں کے مطابق ضابطہ اخلاق

وفاقی حکومت نے میڈیا پر ریاست کے خلاف بدامنی اور نفرت انگیز ریمارکس دینے والے دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے اہم ترین مطلوب شخصیات کے انٹرویوز نشر کرنے دہشتگردی کے واقعات اور ریسکیو آپریشن کے دوران میڈیا کی براہ راست کوریج کرنے غیر ملکی مواد پر مبنی نشریات سیاسی جماعتوں پر یکطرفہ تنقید میڈیا ٹرائل اشتہارات میں بے ہودگی سمیت نرخوں اور عدالتی فیصلوں کیخلاف توہین آمیز ریمارکس کو الیکٹرانک میڈیا میں نشر اور جاری ہونے سے روکنے کیلئے ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دے دی ہے جسے باضابطہمنظوری کیلئے وزیر اعظم کو بھجوا دیا گیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں قومی اداروں کا کسی ثبوت کے بغیر ٹرائل کرنے کے واقعہ کے بعد وزیر اعظم نے 9مئی کو اپنے معاون خصوصی عرفان صدیقی کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی مذکورہ کمیٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں اور مشاورت کے بعد الیکٹرانک میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق کو مرتب کیا ہے کہ عرفان صدیقی بلاشبہ مذکورہ ضابطہ اخلاق کو مرتب کرنے کے سلسلے میں مبارکباد کے مستحق ہیں اس ضابطہ اخلاق کے جو سرسری سے خدوخال سامنے آئے ہیں وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذکورہ کمیٹی نے ان تمام مسائل کو پیش نظر رکھا ہے جو الیکٹرانک میڈیا کے ایک نمایاں حصے کی غیر ذمہ دارانہ روش کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں اگرچہ ہم بڑے فخر سے اپنے ہی الیکٹرانک میڈیا کے آزادانہ کردار کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس وقت قوم کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ دیکھتی ہے کہ میڈیا اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال نہیں کررہا نجی ٹی وی چینلز نے ریٹنگ اور اشتہارات کی دوڑ میں مروجہ اخلاقیات کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے یہ چینلز عام پیشہ وارانہ کردار سے بھی بہت پیچھے ہیں قتل و غارت کی خبروں کو بار بار نشر کیا جاتا ہے مختلف شوز میں عریانی عام ہوچکی ہے جبکہ ہمارے ہاں ٹاک شوز سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں یا قومی اداروں کے خلاف کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں اس کے برعکس متعدد مممالک میں ان شوز کے ذریعے سیاسی معاشی اور معاشرتی موضوعات پر علمی انداز میں بحث ہوتی ہے ہمارے ہاں بھارتی فلموں اور اداکاروں سے متعلقہ مواد کو نشر کرنا بھی عام طور پر چینل کی مقبولیت کیلئے ضروری خیال کیا جاتا ہے جبکہ بھارتی چینلز میں پاکستانی ڈراموں اور فلموں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ریاست میں بدامنی کے خاتمے اور محبت و اخوت کے جذبات کو اجاگر کرنے یا پروان چڑھانے کے سلسلہ میں الیکٹرانک میڈیا کا جو کردار ہونا چاہیے اس کا ہمارے ہاں وجود ہی نہیں اس پس منظر میں قومی امنگوں اور ضرورتوں کے مطابق ضابطہ اخلاق ناگزیر تھا اب جبکہ اسے مکمل کیا جاچکا ہے اور یہ نافذ العمل ہونے کو ہے حکومت کو اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔