Get Adobe Flash player

سانحہ لاہور پر اے پی سی،سیاسی مقاصد اور مضحکہ خیز مطالبات

 پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے سانحہ لاہور کے سلسلے میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کے بارے میں اگرچہ یہ دعوی کیاگیا تھا کہ یہ سراسر غیر سیاسی ہوگی مگر اس دوران جو بھی تقاریر کی گئیں وہ مکمل طور سے سیاسی تھیں اور کانفرنس کے بعد جو اعلامیہ منظر عام پر آیا وہ بھی مخصوص سیاسی مقاصد کی نشاندہی کرتاہے پانچ نکاتی اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ وزیر اعلی پنجاب سانحہ کے ذمے دار ہیں انہیں مستعفی ہوجاناچاہیے اگر وزیر اعلی خود مستعفی نہ ہوں تو صدر مملکت بحیثیت سربراہ ریاست ان کو عہدہ سے ہٹانے میں کردار ادا کریں یہ مطالبہ بھی کیاگیا ہے کہ سانحہ لاہور کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے تین غیرمتنازعہ غیر جانبدار اور اچھی شہرت کے حامل ججز جن پر متاثرین کو مکمل اعتماد ہو مشتمل کمیشن تشکیل دیاجائے جبکہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اچھی شہرت کے حامل افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے ایک مطالبے میں کہاگیاہے کہ آئی جی ڈی آئی جی آپریشنز ہوم سیکرٹری پنجاب ڈی سی او سی سی پی او ایس ایس پیز ایس پی ماڈل ٹائون اور متعلقہ ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو فوری طور پر برطرف کر کے قتل عام دہشت گردی اور اقدام قتل کے جرم میں گرفتار کیاجائے اعلامیہ میں کہاگیاکہ پرامن اور نہتے شہریوں پر ظلم اور بربریت ایک ایساعمل ہے جو اسلامی آئینی قانونی جمہوری اور بین الاقوامی اقدار کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے اعلامیہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور پولیس کو متنبہ کیاگیاہے اس طرح کے کسی واقعہ کو برداشت نہیں کیاجاسکتا اور اس کے ذمے داران کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے لاہور کی مذکورہ اے پی سی میں صرف تین پارلیمانی جماعتوں نے شرکت کی جبکہ باقی شریک گروپوں کی منتخب ایوانوں میں کوئی حیثیت نہیں ہے کانفرنس کے میزبان کی تضاد بیانی کا یہ عالم ہے کہ اگرچہ آغاز میں انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور صرف سانحہ لاہور پر ہی گفتگو کی جائے گی مگر اس کے بعد نہ صرف انہوں نے بلکہ کم وبیش ہرمقرر نے پرجوش سیاسی تقریر کی کانفرنس کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اگرچہ سانحہ لاہور کے مقتولین کے لئے بظاہر رنج اور غم کا اظہار کیاگیا لیکن اجلاس کے شرکاء اور کانفرنس کے میزبانوں کی طرف سے مرحومین کے لواحقین کی امداد یا ان کے بچوں و اہل خانہ کی کفالت کے سلسلے میں کچھ نہیں کیاگیا اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ کانفرنس کا اول وآخر مقصد لاشوں کی سیاست کے سوا کچھ نہ تھا اعلامیہ کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیاگیا دوسری طرف اپنے طور پر ہی کانفرنس کے شرکاء نے وزیر اعلی پنجاب سمیت متعدد اعلی پولیس افسران اور ہوم سیکرٹری پر فردجرم عائد کر دی اور ان کی برطرفی کے مطالبے کر دیئے اگر برطرفی کے مطالبات کی یہی صورت ہے تو پھر سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن کے مطالبے کا کیا جواز رہ جاتاہے؟مذکورہ کانفرنس نے سانحہ لاہور کی تحقیقات کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں قائم کمیشن کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں کیا جو مسلسل کام کر رہاہے اور متعلقہ افراد کے بیان قلمبند کر رہاہے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس کمیشن کی موجودگی میں کسی نئے کمیشن کا کیا جواز بنتاہے؟طاہر القادری نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کر رکھاہے اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کو اس کے سامنے پیش ہو کر بیانات ریکارڈ کرانے سے منع کر رکھاہے اہم بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے مذکورہ کمیشن کی غیر جانبداری پر کسی قسم کے شبہ کا اظہار بھی نہیں کیاگیا قانون کی بالادستی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ کمیشن کے ساتھ تعاون کرتے اور حقائق تک پہنچنے کے سلسلے میں اس کی معاونت کرتے مگر ان کی دلچسپی حقائق تک پہنچنے سے زیادہ اس سانحہ کی آڑ میں سیاسی مقاصد کے حصول پر مرکوز ہے اصولی طور پر سانحہ لاہور کے حوالے سے اے پی سی کے انعقاد کی بھی ضرورت نہ تھی اے پی سی میں جو لوگ شامل ہوئے ہیں ان کی طرف سے پہلے ہی سانحہ لاہور کی مذمت کر دی گئی تھی اور اس طرح ان کا موقف سب کے سامنے تھا حقیقت تو یہ ہے کہ اس واقعہ کی حکومت سمیت سب ہی حلقوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے اے پی سی کا یہ مطالبہ بھی اس کے شرکاء کی قانون سے لاعلمی کی نشاندہی کرتاہے جس میں کہاگیاہے کہ اگر وزیر اعلی پنجاب استعفے نہ دیں تو صدر مملکت انہیں عہدے سے ہٹا دیں پاکستان کے آئین وقانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت صدر مملکت کسی صوبے کے منتخب وزیر اعلی کو ہٹا سکیں البتہ فوجی آمریت اور مارشل لاء میں چونکہ فوجی آمر مطلق ہوتاہے اس لئے وہ اس قسم کے اقدامات کر سکتاہے کانفرنس کے بیشتر شرکاء چونکہ آمریت کے ساتھ رہے ہیں اس لئے انہیں آئینی اور جمہوری تقاضوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے اگرطاہر القادری سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کسی نئے کمیشن کے خواہاں ہیں تو مناسب طریقہ یہی ہے کہ اس سلسلہ میں وہ اعلی عدلیہ سے رجوع کریں اور پھر کمیشن کے قیام کے بعد اس کے نتائج کا انتظار کریں