متاثرین کی امداد کے سلسلے میں خیبر پختونخواہ حکومت کا کردار؟

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی پرویزخٹک کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جسے اے پی سی کا نام دیاگیا وفاقی حکومت پر تنقید کی گئی کہ اس نے آپریشن سے قبل صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا یہ بھی کہاگیا کہ آپریشن کے اثرات اور متاثرین کو درپیش مسائل کے ازالے کے لئے کوئی پیشگی بندوبست نہیں کیاگیا اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کا بندوبستی علاقوں کے بجائے افغانستان کی جانب نقل مکانی کرنا افسوسناک ہے آپریشن میں پندرہ لاکھ سے زائد مویشیوں کے مرنے کا اندیشہ ہے جس سے لائیو سٹاک کا ایک بڑا بحران پیدا ہوسکتاہے اس لئے ان کے چارے اور پانی کا بندوبست کیاجائے یہ بھی مطالبہ کیاگیا کہ متاثرین کے لئے بیس ہزار روپے فی خاندان ماہانہ امداد بہت کم ہے اسے بڑھا کر پچاس ہزار روپے کیاجائے متاثرین کی اندرون ملک اپنے رشتے داروں کے ہاں ٹھہرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے ملک کے کسی بھی حصہ میں ان پر پابندی غیر آئینی ہے غیر معینہ مدت تک آپریشن کو جاری رکھنا خطرناک ہے ٹھوس منصوبہ بندی اور ٹائم فریم کے بغیر آپریشن کا آغاز مناسب نہ تھا یہ امر قابل ذکرہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے بنوں میں متاثرین کے مختلف کیمپوں کے دورے کے دوران خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی ان کے ہمراہ تھے ان کی موجودگی میں وزیراعظم نے رمضان المبارک کے دوران رمضان پیکج کی مد میں بیس ہزار روپے اضافہ دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ رمضان میں فی خاندان چالیس ہزار روپے دیئے جائیں گے اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آپریشن کے خاتمہ کے بعد متاثرین کے گھروں کی ازسر نو تعمیر کی جائے گی اور انہیں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی وزیراعظم کو دوران بریفنگ یہ بھی بتایاگیا کہ فوج کی طرف سے متاثرین کے مال مویشیوں کے لئے بھی چارے اور پانی کا انتظام کیاگیاہے وزیراعظم کے اس دورے کے بعد وزیر اعلی کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جسے انہوں نے اے پی سی قرار دیا تعجب کی بات ہے کہ مذکورہ اجلاس میں انہوں نے وزیراعظم کے اعلانات یا متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کے حکومتی منصوبے کا سرے سے ذکر ہی نہ کیا اس اجلاس کا انعقاد وسراسر سیاسی مقاصد کے لئے تھا اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ صوبائی حکومت جو دہشت گردی سے ہمیشہ براہ راست متاثر ہوئی اس نے متاثرین کی امداد کے سلسلے میں خود کوئی موثر کردار ادا کرنے کی بجائے وفاقی حکومت کی امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بھی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جہاں تک آپریشن کے سلسلے میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کا سوال ہے پورے ملک پر واضح تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور ان کے رویے کی وجہ سے آپریشن ناگزیر ہوتا جارہاہے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل سٹراٹیکس کا سلسلہ تو بہت پہلے جاری تھا اس قسم کے آپریشن کا اعلان کر کے شروع نہیں کئے جاتے ایسی صورت میں ان کی کامیابیوں کے امکانات معدوم ہونے کا خدشہ ہوتاہے خیبر پختونخواہ کی حکومت کو متاثرین کی امداد کے معاملات میں کیڑے نکالنے کے بجائے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے تمام کیمپوں میں پاک فوج کے نظم وضبط کے ذریعے نقد امداد اور راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے فوج ہی نے متاثرین کی چھان پھٹک کے بعد رجسٹریشن کی ہے اور اس چھان پھٹک کے دوران اس نے بہت سے دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیاہے جو متاثرین کی آڑ میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے متاثرین کی امداد اور دیکھ بھال کا کام خوش اسلوبی سے جاری ہے مزید بہتری لانے کے لئے صوبائی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرناچاہیے تماشائی کا کردار اسے زیب نہیں دیتا۔