Get Adobe Flash player

وزیراعلیٰ بلوچستان بتائیں کہ ارسلان افتخار کی تقرری کا میرٹ کیاہے؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی بلوچستان میں سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے تقرری پر اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے وفاقی حکومت اور وزیراعظم پر شدید تنقید کی جارہی ہے تاہم وزیر اعلی بلوچستان کا موقف ہے کہ اس تقرری کے سلسلے میں انہوں نے وفاقی حکومت سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی یہ ان کا انفرادی فیصلہ ہے جو انہوں نے صوبے کے منتظم اعلی کی حیثیت سے صوبے کے مفاد میں کیاہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ بلوچستان حکومت کے متعدد وزراء نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور کہاہے کہ ایک متنازعہ شخصیت کی تقرری سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اس لئے وزیر اعلی کو یہ فیصلہ واپس لیناچاہیے مگر وزیر اعلی بدستور اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں ماضی میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان میں ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دیاتھا اب انہی کے صاحبزادے صوبے کے کھربوں روپوں کے معدنی ذخائر کے فیصلے کریں گے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے ارسلان افتخار وسیع اختیارات کے مالک ہوں گے اور سونے اور تانبے سمیت قیمتی معدنی ذخائر کے منصوبے ان کی صوابدید پر ہوں گے بعض اطلاعات کے مطابق ریکوڈک میں ڈھائی لاکھ اونس سونے اور چھ لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر موجود ہیں نئی صورتحال میں ارسلان افتخارہی یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سا منصوبہ کس کمپنی کو دیناہے۔ماضی میں ڈاکٹر ارسلان افتخار پر بعض شخصیات کی طرف سے غیر ملکی دوروں میں غیر معمولی مراعات کے حصول کے الزامات لگتے رہے ہیں ابھی تک اس معاملے میں وہ اپنی پوزیشن صاف نہیں کر سکے اس پس منظر میں وزیراعلی بلوچستان کی طرف سے اہم ترین عہدے پر ان کی تقرری بہت سے سوالات اور شبہات کو جنم دیتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ کے منصب پر ایک تجربہ کار اور دیانتدار شخصیت کو مقرر کیاجائے اور اس ادارے کی تمام کارروائی میں شفافیت کو ملحوظ رکھاجائے متنازعہ تقرری مستقبل میں مزید بہت سے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔