عراق کے خلاف جارحیت امریکہ کی غلطی یا سنگین جرم

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعتراف کیاہے کہ عراق کی جنگ امریکہ کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں ایک چینی نیوزایجنسی سے اپنے انٹرویو میں جان کیری کا کہناتھا کہ انہوں نے سابق صدر بش کے دور میں ہی اس فیصلے کو غلط قرار دیاتھا آج بھی خطے کے بہت سے مسائل عراق کی جنگ کے ہی پیدا کردہ ہیں جن سے نمٹنے کے لئے امریکہ کوششیں کر رہاہے جس کی ایک مثال صدر اوبامہ کا عراق سے فوجیوں کو واپس بلاناہے انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ کے نتائج سے نمٹنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہاہے ویتنام اور عراق کی جنگوں کے بے حد منفی نتائج نکلے جبکہ افغان جنگ بھی امریکی معیشت پر بوجھ بن چکی ہے افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکی معیشت ترقی کرے گی عراق کے خلاف جنگ کو اگرچہ امریکی وزیر خارجہ نے امریکہ کی غلطی قرار دیاہے جبکہ انصاف پسندوں کے نزدیک عراق میں مداخلت اور اس کے خلاف فوجی کارروائی امریکہ کا سنگین جرم تھا جس طرح امریکیوں نے سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا اور عراق کی جیلوں میں ان کے ساتھ جس بربریت کا مظاہرہ کیا کاش دنیا کی کسی غیر جانبدار عدالت نے اس وقت کے امریکی حکمرانوں کو اس پر سزا دی ہوتی عراق میں امریکی مداخلت سے بھی پہلے امریکہ کا چہرہ جرائم سے دغدار ہوچکاتھا اس نے ایران کے اسلامی انقلاب کو سبوتاژ کرنے کے لئے عراق کے صدر صدام حسین کو شہ دی جس کے نتیجے میں عراقی فوجوں نے ایران کے خلاف جارحیت کی دس سال تک دونوں مسلمان ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما رہیں چنانچہ مجموعی طور پر مسلم امہ کی عسکری اور معاشی طاقت کمزور ہوئی اور دونوں طرف سے مسلمان ہی مارے گئے یہ بھی امریکی شہ ہی تھی جس کے نتیجے میں ایران عراق جنگ ختم ہونے کے بعد عراق نے کویت پر چڑھائی کرتے ہوئے اس پر قبضہ کرلیا امیر کویت بمشکل جان بچاکر نکلنے میں کامیاب ہوئے اس کے بعد امریکہ نے عراق کے خلاف کارروائی کر کے اسے پیچھے ہٹایا امیرکویت کو حکومت بحال کروائی اور اس تمام فوجی کارروائی کا بل کویت حکومت سے وصول کیامسلمانوں کا خون بہانے ان کے وسائل لوٹنے اور انہیں کمزور کرنے کی امریکی کوششوں نے اس وقت ایک نیا رخ بدلا جب امریکہ اور اس کے بعض مغربی اتحادیوں کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتیھار موجود ہیں اگر اس نے انہیں ضائع نہ کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی امریکی سی آئی اے کی رپورٹوں میں مسلسل عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا تذکرہ کیاجاتارہا یہ الگ بات کہ کچھ عرصہ بعد امریکہ میں ہی یہ تسلیم کیاگیا کہ سی آئی اے کی رپورٹیں سراسر غلط تھیں بہرحال ان رپورٹوں کی بنیاد پرعراق کے خلاف فوج کشی کی گئی جب کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی ثابت نہ کی جاسکی تو یہ ڈہونگ رچایاگیا کہ عراقی عوام صدام آمریت سے نجات دلانے اور انہیں جمہوری نظام دینے کے لئے امریکہ نے اپنا کردار اداکیا ہے اس طرح عراق حکومت ختم کی گئی اس کی فوج اور دیگر ادارے تباہ کئے گئے اور صدام حسین کو گرفتار کر کے پھانسی دی گئی عراق پر قبضہ کے بعد اس کے تیل اور دیگر قومی خزانوں کو جس طرح امریکیوں نے لوٹا اور عراقی عوام کے ساتھ جس بربریت کا مظاہرہ کیاوہ ایک الگ داستان ہے امریکی کارروائی کے بعد سے آج تک اس ملک کو استحکام حاصل نہ ہوسکا اور یہ مسلسل عدم استحکام اور خانہ جنگی کا شکار رہے امریکہ نے عراق کے معاملے میں اپنے جن مذموم عزائم کو پروان چڑھایا اور ایران و کویت کے خلاف جارحیت کے لئے جس طرح صدام کی پیٹھ ٹھونکی دنیا انہیں امریکہ کے سنگین جرائم قرار دیتی ہے مگر حیرت ہے کہ امریکہ کے ان جرائم کو جان کیری امریکی غلطیوں سے تعبیر کر رہے ہیں معصوم اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام اور ملکوں کے خلاف امریکہ کی طرف سے براہ راست جارحیت اور دوسروں کو جارحیت کی شہ انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرائم ہیں اس صورتحال کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ امریکہ کی''یہ غلطیاں،، صرف مسلم ریاستوں ہی کے خلاف سرزد ہوئی ہیں مسلم دنیا سے بہتر کون جاسکتاہے کہ امریکہ کی طرف سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم ریاستوں کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل لوٹنے کے عزائم پر عمل ہورہاہے امریکہ کے ان ہی مذموم عزائم کا یہ نتیجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر اور بالخصوص مسلم دنیامیں امریکی مقبولیت اور ساکھ تیزی سے کم ہورہی ہے اور اس کی معیشت پر بھی اس کی ان مہم جوئیوں کے نتیجے میں شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جب تک امریکہ مسلم دنیا کے خلاف اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا اس وقت تک اسے وہ وقار حاصل نہیں ہوسکتا جو کسی اہم عالمی طاقت کو حاصل ہوناچاہیے۔