Get Adobe Flash player

گیس کی قیمتوں میں اضافہ ، عوام پر بالواسطہ اور براہ راست اضافی بوجھ

وفاقی حکومت نے بجٹ میں فرٹیلائز ر اور سی این جی سمیت دیگر شعبوں کیلئے گیس انفراسٹر کچر ڈ ویپلمنٹ سیس میں کئے گئے اضافہ کا اعلان کردیا ہے جس کے نتیجے میں سی این جی کی قیمت میں مجموعی طور پر ساڑھے پانچ روپے کلو تک اضافہ کیا گیا ہے سی این جی ایسوسی ایشن کے مطابق اب ریجن ون میں سی این جی کی قیمت 74.25روپے سے بڑھ کر76.35 روپے فی کلو اور ریجن ٹو میں 66.50روپے سے 71.50روپے ہوگئی ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ گیس کے نرخ صرف سی این جی سیکٹر کیلئے ہی نہیں بڑھائے گئے بلکہ کھادوں صنعتی شعبہ کراچی الیکٹر ک سپلائی پاور کمپنی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں آئی پی پیز کیلئے بھی گیس انفر اسٹر کچر ڈویپلمنٹ سیس میں اضافہ کیا گیا ہے اور لازمی طور پر اس اضافہ کے نتیجے میں ان کی پیداواری لا گت میں بھی اضافہ ہوگا اوراس طرح بالواسطہ طور پر یہ بوجھ عوام کو ہی اٹھا ناپڑے گا اس طرح کے بالواسطہ ٹیکسوں کے نتیجے میں عام شہری جن کی آمدنی مخصوص اور محدود ہے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جہاں تک سی این جی سیکٹر میں قیمتوں میں اضافے کا معاملہ ہے اس سے عوام براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر متاثر ہوں گے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا جبکہ سی این جی کے براہ راست صارفین کو بھی اضافی قیمت دینی پڑے گی طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ اب حکومت کی طرف سے شہریوں کو سی این جی فراہم کرنے کا دورانیہ بھی کم کر دیاگیاہے پوٹھوار ریجن کو اب پیر اور جمعرات کے روز صبح چھ سے سہ پہر تین بجے تک سی این جی فراہم کی جائے گی گویا ان نو گھنٹوں میں سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ منفی کیاجائے تو شہری صرف سات گھنٹے تک سی این جی حاصل کر سکیں گے البتہ سرکاری اور نجی شعبہ کے ملازمین تو ان اوقات سے بھی قطعاً استفادہ نہیں کر سکیں گے حکومت کو شہریوں اور سی این جی سیکٹر کے ساتھ آنکھ مچولی کو ختم کرناچاہیے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو سحر وافطار کے دوران لوڈشیڈنگ سے استثنے کے حکومتی دعوے تو پہلے ہی سراب ثابت ہوئے اب سی این جی کے نرخوں میں اضافہ اور اس کی فراہمی کے دورانیہ میں کمی شہریوں کے لئے مزید اذیت اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے حکومت کو ان فیصلوں پر فوری طور پر نظرثانی کرنی چاہیے۔