Get Adobe Flash player

عمران خان کو حکومت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت

 ماضی کے برسوں سے تقابل کیاجائے تو یہ خوش آئند صورتحال قوم کے سامنے آتی ہے کہ ملک میں تیزی سے جمہوریت مستحکم ہورہی ہے جمہوری اور سیاسی تاریخ کا یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا اس طرح ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل ہوا یہی نہیں ماضی کے مقابلے میں آج میڈیا نہ صرف آزاد ہے بلکہ اس نے وسعت بھی اختیار کر لی ہے اسی طرح عدلیہ بھی مکمل آزادی کے ساتھ اپنا آئینی وقانونی کردار ادا کر رہی ہے وہ انتظامیہ کے دبائو اور اثرورسوخ سے یکسر آزاد ہے ملک میں کسی سیاسی کارکن کے خلاف انتقام کے طور پر کارروائی نہیں کی جا رہی اور سیاسی جماعتیں بھی مکمل آزادی کے ساتھ نہ صرف حکومت پر تنقید کر رہی ہے بلکہ جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے اپنا جمہوری حق استعمال کر رہی ہیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ ہماری بعض سیاسی جماعتیں اپنے اس جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے بسا اوقات قانون سے بھی تجاوز کرجاتی ہیں مگر اس کے باوجود حکومت ان کے معاملے میں نرم روی کا مظاہرہ کر رہی ہے جمہوری حقوق کا استعمال کتنا ہی اہم اور درست کیوں نہ ہو قوموں پر کبھی کبھار ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انہیں اپنی سلامتی کے لئے اپنی ترجیحات تبدیل کرنی پڑتی ہیں جب مملکت کی بقاء وسلامتی کا معاملہ درپیش ہو تو ایسے میں جمہوری حقوق کااستعمال قانونی حیثیت اختیار کرجاتاہے اور پوری قوم متحد اور یک جان ہو کر اپنی سلامتی کے دشمنوں کے خلاف صف آراء ہوجاتی ہے اس پس منظر میں آج کے حالات پر نظردوڑائی جائے تو یہ منظر دکھائی دیتاہے کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے وہ اگر ایک طرف پاک فوج کو قوت فراہم کر رہی ہے تو دوسری طرف ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد متاثرین شمالی وزیرستان کی امداد کے لئے بھی احسن طور پر اپنی ذمے داریاں سر انجام دے رہی ہے اس صورتحال میں تحریک انصاف سمیت کسی بھی جماعت کی طرف سے حکومت مخالف جلسوں اور جلوسوں کے اعلان کا مطلب حکومت اور قوم کی توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہٹانے کی کوششوں کے مترادف ہے ہمیں یہ نہیں بھولناچاہیے کہ پاک فوج جن دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر کے ان کے مکمل خاتمہ کے لئے آپریشن کر رہی ہے ان کی یہ کوشش اور خواہش ہے کہ پاکستانی قوم تقسیم ہوجائے اور سیاسی جماعتوں وحکومت کے درمیان کشیدگی تیز تر ہو تاکہ پاک فوج کو قوم کی طرف سے حاصل ہونے والی پشت پناہی اور حمایت پر منفی اثرات مرتب ہوں اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر سکے ملک کے اندر سیاسی انتشار کا واضح مقصد دہشت گردوں کو تقویت پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا اس تناظر میں ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی توجہ اس جانب مبذول کرواناضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے نزدیک ان کے14 اگست کے جلسہ جلوس کی کتنی ہی اہمیت کیوں نہ ہو اسے مملکت کی سلامتی کے مفادات پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے اس وقت جلسوں جلوسوں کا مطلب دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے مترادف ہے عمران خان ایک عظیم محب وطن ہیں قوم کے بہتر مستقبل کے لئے ان کے عزائم بھی یقیناً قابل تحسین ہیں لیکن موجودہ وقت یکجہتی کا تقاضا کرتاہے حکومت کے ساتھ اپنے اختلافات اور مظاہرے وہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیں اس وقت انہیں قوم کے اتحاد کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے حکومت کی طرف سے انہیں مذاکرات کی دعوت دے کر ایک راست قدم اٹھایاہے انہوں نے کہاہے کہ حکومت تحریک انصاف کے تحفظات دور کرے گی اور پارلیمنٹ کے اندر یا باہروہ جہاں چاہے گی اس سے مذاکرات کئے جائیں گے وزیر اطلاعات کا کہناہے کہ محاذ آرائی تنائو اور کشمکش کی فضا آپریشن ضرب عضب پر اثر انداز ہوسکتی ہے اس لئے اس سے گریز کیاجاناچاہیے وزیر اطلاعات نے بجا طور پر کہا کہ ملک کے اندر کشیدگی کی فضا دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے ایک ایسی صورتحال میں جب عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کی حمایت کر رہی ہے اور اس کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کررہی ہے ملک کے اندر سے کوئی بھی ایسی کوشش نہیں ہونی چاہیے جو آپریشن کی کامیابیوں کے لئے کسی بھی قسم کے نقصان کا باعث بن سکتی ہو پاک فوج اور قوم دونوں مل کر دہشت گردوں کی اس جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں جس نے گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک کی معیشت اس کی سلامتی اور اس کی خوشحالی کو شدید نقصانات سے دوچار کیاہے اب جبکہ قوم اس لعنت کے خاتمہ کے لئے تیزی سے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے اس کی یکجہتی کے خلاف کوئی بھی کوشش نہیں ہونی چاہیے