Get Adobe Flash player

تحفظ پاکستان بل دہشتگردی کی خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرے گا

 حکومت اور اپوزیشن کی مشتر کہ کوششوں سے تحفظ پاکستان بل 2014آخرکار قومی اسمبلی سے بھی منظور کرلیا گیا جبکہ سینٹ نے اسے پیر کے اجلاس میں منظور کرلیا تھا اگر چہ یہ بل سے سب سے پہلے قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا مگر جب یہ منظوری کیلئے سینٹ کے ایوان میں پیش ہوا تو ایوان بالا نے اسے قومی اسمبلی کی منظورکردہ صورت میں منظور کرنے سے انکار کردیا حزب اختلاف نے اس میں بعض ترامیم پیش کیں جنھیں خاصے رد و کدکے بعد حکومت نے بھی تسلیم کرلیا چنانچہ حکومت نے اپوزیشن کی مشاورت سے بل کے مسودے کو ازسرنو مرتب کیا جسکی سینٹ سے منظور ی حاصل کی گئی بعد ازاں قانونی تقاضے کے تحت اسے قومی اسمبلی سے بھی منظور کروالیا گیاتاہم بل پر رائے شماری کے دوران جماعت اسلامی نے مخالفت کی جبکہ تحریک انصاف نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جماعت اسلامی جس کے سابق امیر کی طرف سے دہشتگرد وں کے سرغنہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو شہادت قرار دیا گیا تھا اس کی طرف سے بل کی مخالفت کسی کیلئے تعجب کا باعث نہیں البتہ تحریک انصاف نے رائے شماری میںحصہ نہ لے کر جس طرح اس بل سے اپنے آپ کوالگ تھلگ کرلیا اسے سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے معنی خیز اور عمران خان کی تضادات پر مبنی سیاست کاشاخسانہ قرار دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ بل دہشتگردی کے خلاف قومی جنگ میں قومی ضرورتوں کے عین مطابق ہے اور اس کی وجہ سے ہی نہ صرف دہشتگر د وں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے گا بلکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون کے محاذ پر پاک فوج کی معاونت کی جاسکے گی تحفظ پاکستان بل 2014صدر مملکت کے دستخطوں کے بعد دوسال کیلئے نافذ العمل ہوگا اس مدت کے بعد یہ ازخود تحلیل ہوجائے گا اس قانون کی رو سے پولیس اور سیکورٹی فورسز مشتبہ افراد کو گولی سے اڑا سکیں گی تاہم دہشتگردوں یا مشتبہ افراد کو گولی مارنے کا حکم سب سے آخری حربے کے طورپر استعمال ہوگاحکومتی رٹ چیلنج کرنے والوں فرقہ واریت تشدد اور دہشتگرد ی پھیلا نے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی یہ مستحسن بات ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے بھی اس میں زبردست گنجائش رکھی گئی ہے قانون کے تحت سرچ آپریشن کی ضرورت پر دو دن کے اندر عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے وضاحت پیش کرنی ہوگی ریمانڈ کی مدت نوے دن سے کم کرکے ساٹھ دن کردی گئی ہے اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو خصوصی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزا کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیاجاسکے گا جبکہ سزا کی مدت بڑھاکر دس سال سے بیس سال کردی گئی ہے گزشتہ برسوں کے دوران دہشتگر دی کو جو نئی لعنت معاشرے میں ور آئی ہے روایتی قوانین کے تحت اس کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نہ تھاجس کیلئے نئی ضرورتوںکے تحت نئے قانون کی ضرورت تھی یقیناً اپنے نفاذ کے بعد یہ قانون ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے کے سلسلے میںموثر کردار ادا کرے گا۔