Get Adobe Flash player

جمہوری نظام میں آزاد عدلیہ کے وجود کی اہمیت

کسی بھی معاشرے کو انصاف کی بنیاد پر ہی مضبوط بنایاجاسکتاہے جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا وہ جنگل کے معاشروں کا روپ دھار لیتے ہیں ان میں طاقت اور اثر ورسوخ کی فرمانروائی ہوتی ہے اور طاقت واثرو رسوخ کی فرمانروائی ہی لاقانونیت انارکی اور انتشار کو جنم دیتی ہے سپریم کورٹ کے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی تقریب میں ہونے والی گفتگو بھی اسی بنیادی فکر کا احاطہ کئے ہوئے تھی چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی جمہوریت کے قیام کے لئے آزاد عدلیہ ناگزیر ہے جبکہ روایتی عدلیہ اب ہمیشہ کے لئے دفن ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ آئین وقانون پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا عدلیہ کی ذمے داری ہے آج ہمیں انتشار پھیلانے والی قوتوں کی بجائے متحد کرنے والی قوتوں کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز نے عدلیہ کی آزادی کے لئے اہم کردار ادا کیاہے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ملک کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوری کلچر سے مراد معاشرے میں ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کرنا برداشت کا فروغ اور ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی اوربنیادی حقوق کی فراہمی ہے بار اور بنچ میں ایک قدر مشترک ہے دونوں قانون کی حکمرانی کے لئے کام کرتے ہیں عدلیہ بنیادی حقوق پر عمل درآمد کرنے میں انتظامیہ کو رہنما اصول فراہم کرتی ہے انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹس سے لوگوں کو فوری طور پر ان کا حق ملاہے تعلیم اور برداشت کے کلچر کے فروغ سے ہی نظام درست ہوسکتاہے ملک کے ہر شہری کو بنیادی حقوق کی فراہمی عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ کی ذمے داری ہے بطور شہری ہمارا فرض ہے کہ معاشرے میں امن وامان برداشت اور بھائی چارہ کی فضا قائم کریں چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بجا طور پر اس بنیادی حقیقت کی نشاندہی کی کہ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی گویا جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے دیگر عوامل کے ساتھ اگر آزاد عدلیہ شامل نہیں ہے تو جمہوریت کا قائم رکھنا مشکل ہے عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ الیکشن کے انعقاد اور مرکز وصوبوں میں منتخب حکومتوں کے قیام کے بعد جمہوریت مستحکم ہوگئی مگر یہ انداز فکر درست اور حقیقی نہیں ہے بنیادی بات آئین وقانون کی عمل داری قائم کرنے اور معاشرے کے تمام طبقات کو کسی امتیاز کے بغیر انصاف کی فراہمی کی ہے جمہوریت شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے موثر کردارسے عبارت ہے آمریت چاہے فوجی ہو یا کسی بھی دوسری صورت میں اس نے ہمیشہ آزاد عدلیہ کی مخالفت کی ہے اور اس کے پر کاٹنے کی کوشش کی ہے بلکہ ہمارا المیہ تو یہ بھی رہاہے کہ ماضی میں منتخب حکومتوں نے بھی عدلیہ کے آزادانہ کردار کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اسے انتظامیہ کے تابع رکھاہے تاہم آزاد عدلیہ کے لئے تاریخ ساز تحریک کے نتیجے میں ملک وقوم کو صحیح معنوں میں ایک غیرجانبدار اور کسی بھی قسم کے دبائو اور اثر سے پاک عدلیہ نصیب ہوئی ہے اب اس کے ارکان کی تقرریوں اور ترقی کا ایسا نظام قائم ہوچکاہے جس میں انتظامیہ کا کوئی کردار نہیں ہے یہ درست ہے کہ قانون کی عمل داری اور انصاف کا نظام قائم کرنے کے سلسلے میں بار اور بنچ کا مشترکہ کردار بے حد اہمیت کا حامل ہے لیکن ہمیں یہ کہنے میں بھی کوئی تامل نہیں کہ عدلیہ نے آزادی حاصل کرنے کے بعد جس طرح آئین وقانون کی بالادستی اور انصاف کی جلد فراہمی کے لئے اپنی ذمے داریاں پوری کی ہیں بار ایسوسی ایشننز کا مجموعی کردار نسبتاً کم رہاہے اور یہ قومی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکا ملک کے مختلف حصوں میں بار کے ارکان کی طرف سے ماتحت عدلیہ کے بعض ارکان کے ساتھ تصادم کے واقعات افسوسناک ہیں ہماری دانست میں ان واقعات نے بار کے ارکان کے وقارمیں اضافہ نہیں کیا اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جاناچاہیے کہ بار ایسوسی ایشنز کے تعاون کے بغیر عدلیہ کے ارکان عوام کی پیروی میں اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کرتاکوئی جج انصاف کی فراہمی کے لئے تنہاکوئی کردار ادا نہیں کرسکتا اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ تمام بار ایسوسی ایشنز اپنے ارکان کو انصاف کی فراہمی کے لئے بھرپور کردار ادا کرنے کا پابند بنائیں انہیں بھی نظم وضبط اور قانون کا پابند بنایاجاناچاہیے قانون دان کا منصب معاشرے کے تمام طبقات اور کرداروں سے بلند تر ہے اس لئے اس منصب کی حامل شخصیت کو بھی قانون کی بالادستی کے حوالے سے بلند کردار کا مظاہرہ کرناچاہیے جس طرح جمہوریت اور انصاف کے لئے آزاد عدلیہ کا وجود ناگزیر ہے اسی طرح اس مقصد کے حصول کے لئے بار ایسوسی ایشنزکے ارکان کا ایسوسی ایشنز کے قواعد کا پابند ہونا بھی ضروری ہے ہمیں کامل یقین ہے کہ وکلاء برادری اپنی صلاحیتوں اور بہتر کارکردگی کے باعث مستقبل میں جمہوریت اور انصاف کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کے سلسلے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرے گی۔