پاک افغان فوجی وفود کے درمیان موثر سرحدی نظام پر اتفاق رائے

افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضل امان کی سربراہی میں افغانستان نیشنل سیکورٹی کونسل افغان ملٹری انٹیلی جنس اور افغان بارڈر پولیس کے نمائندے پر مشتمل وفد نے گزشتہ روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی سربراہی میں پاکستانی وفد سے ملاقات کی اس موقع پر سرحدی رابطوں کے میکنزم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ افغانستان کے صوبہ کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پاکستانی سرحد پر واقع گائوں اور چیک پوسٹوں پر سرحدپار سے حملوں اور شیلنگ کے معاملات بھی زیر غور آئے پاکستانی وفد کی طرف سے افغان وفد کو بتایاگیا کہ پاکستان کی طرف سے کبھی اندھا دھند فائرنگ نہیں کی گئی پاکستان افغانستان کے علاقہ سے دہشت گرد حملہ یا فائر ہونے پر دفاعی کارروائی کرتاہے اور اپنے دفاع کے لئے ہی جوابی فائر کرتاہے آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں وفود کی ملاقات دوستانہ انتہائی خوشگوار اورپیشہ وارانہ ماحول میں ہوگی دونوں اطراف سے ہر طرح کے حالات میں اعتماد سازی برقرار رکھنے باہمی اعتماد میں اضافے اور تمام تر حالات میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیاگیا دونوں ممالک کے سیکورٹی حکام کے درمیان موثر سرحدی نظام بنانے پر بھی اتفاق کیاگیا فریقین نے آئندہ ایک اور ملاقات سے بھی اتفاق کیاہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان وزیر دفاع کے حالیہ دورہ اسلام آبادکے نتیجے میں افغانستان کا فوجی وفد پاکستان کے دورے پر آیاہے اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان موثر سرحدی نظام قائم کرنے کے علاوہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر عائد ہونے والے بعض الزامات پر غور ہے جن کے مطابق پاکستان افغانستان کے علاقے میں فائرنگ کا ارتکاب کر رہاہے جس ماحول میں دونوں وفود کے درمیان بات چیت ہوئی اور موثر سرحدی نظام وضع کرنے کے سلسلے میں جو اتفاق رائے طے پایا وہ خوش آئند ہے وزیر دفاع کے دورے اور اس کے بعد مذکورہ وفد کی بات چیت کے نتیجے میں دوطرفہ سطح پر پائی جانے والی کشیدگی کا خاتمہ ہواہے پاکستان نے برملا طور پر اس امر کا اعتراف کیاہے کہ اس نے کبھی فائرنگ میں پہل نہیں کی البتہ دہشت گرد حملے یا فائرنگ کے جواب میں دفاعی کارروائی کی ہے سوال یہ ہے کہ نورستان اور کنڑ کے حوالے سے ہی افغانستان کے خدشات کیوں سامنے آئے اور اس نے کسی دوسرے علاقے میں فائرنگ کی شکایت کیوں نہیں کی؟افغان حکومت سے بہتر اس سوال کا جواب کون دے سکتاہے ان میں ہی دو صوبوں میں پاکستان کے مفرور دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں اگر افغان حکومت ان ٹھکانوں کو ختم کرتی تو اس کے اعتراضات اور خدشات ہی پیدا نہ ہوتے پاکستان کی طرف سے افغان وفد پر ایک بار پھر یہ واضح کیاگیاہے کہ ملا فضل اللہ سمیت دیگر مطلوبہ دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیاجائے اور دہشت گردی کے خلاف اس کے آپریشن کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں افغان حکومت اپنے حصے کا کردار ادا کرے اس معاملے میں افغان حکومت کی معنی خیز خاموشی دہشت گردوں کے تحفظ کے علاوہ اور کوئی مفہوم واضح نہیں کرتی عالمی برادری کو بھی اس کے اس رویے کا نوٹس لیناچاہیے۔