بھارتی وزیراعظم کا دورہ اور مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران جس قسم کے مناظر دنیا کے سامنے آئے وہ ایک بار پھر کشمیریوں کے اضطراب اور کشمیر پر بزور شمشیر بھارتی تسلط کی نفی کرتے ہیں بھارتی وزیراعظم نئی دہلی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کاترا گئے جہاں انہوں نے پچیس کلو میٹر ریلوے لائن کا افتتاح کیا انہوں نے کنٹرول لائن کے قریب اوڈی شہر میں پن بجلی کے ایک منصوبے کا افتتاح بھی کیا اس کے بعد عازم دہلی ہوئے میڈیا سے بات چیت کے دوران ان کا کہناتھا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے جموں وکشمیر کے عوام کے دل جیتنا چاہتے ہیں بنیادی ڈھانچہ تعمیر وترقی کی ماں ہے وہ کشمیر کی دھرتی پر ماتا وشینو دیوی کی آشیر واد لینے آئے ہیں جموں وکشمیر کو بھارت کے ساتھ ریل کے ذریعے ملانا واجپائی کا خواب تھا جسے پورا کیاجائے گا۔بھارتی وزیراعظم کا یہ نقطہ نظر درست نہیں ہے کہ تعمیر وترقی کے منصوبوں کے ذریعے کشمیریوں کے دل جیتے جاسکتے ہیں اگر یہ درست ہوتا تو اب تک مقبوضہ کشمیر میں تعمیر وترقی کے جتنے منصوبے مکمل ہوئے یا زیر تکمیل ہیں ان کے اثرات ان کے اس دورے کے موقع پر بھی دیکھنے میں آتے مگر اس کے برعکس حالات یہ تھے کہ ان کے دورے کے موقع پرمقبوضہ کشمیر کے طول وعرض میں ہڑتال کی گئی اور حکومت نے تمام کشمیری لیڈروں کو ان کے گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق سمیت ہر سطح کے لیڈروں کو نظر بند کرنے کے بعد یہ تصور کرلینا کہ سب کچھ درست ہے حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے بھارتی وزیراعظم کی مقبوضہ کشمیرآمد پر مکمل ہڑتال رہی اور بعض مقامات پر شدید مظاہرے بھی ہوئے ہڑتال کے باعث کشمیر کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا اس موقع پر تمام دکانیں کاروباری مراکز سکول وکالج بند رہے سڑکوں پرگاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل رہی ہڑتال کی کال حریت پسند رہنمائوں سمیت متعدد تنظیموں کی طرف سے دی گئی تھی تاکہ عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیاجاسکے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے موصولہ اطلاعات کے مطابق سرینگر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے باعث کرفیو کا سماں محسوس ہوتا تھا سرینگر شہر میں موبائل فون سروس بند تھی اور سیکورٹی فورسز کی ساڑھے گیارہ سو کے لگ بھگ چوکیاں قائم تھیں گورنر ہائوس کے تمام راستوں کو بند اور سرینگر ایئرپورٹ پر تمام پر وازوں کو بھی معطل کر دیاگیاتھا اس موقع پر کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے ایک پیغام میں کہا کہ نریندر مودی کی حکومت کو وہی راستہ اختیار کرناچاہیے جو وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کیاتھا انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ان کی دلی تمنا ہے۔بھارتی وزیراعظم کے مقبوضہ کشمیر کے مختصر دورے کے موقع پر کشمیری عوام نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ نئی دہلی کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کشمیریوں کے درجنوں چوٹی کے لیڈروں کو نظر بند کر کے اور سرینگر میں کرفیو کا ماحول پیدا کر کے بھارتی وزیراعظم کے دورے کے انتظامات کرنا کس بات کی غمازی کرتاہے یہ اس امر کی علامت ہے کہ بھارت کے نام نہاد انتخابات اور تعمیر وترقی کے منصوبے بھی کشمیریوں کو ان کے حقیقی کاز سے پیچھے نہ ہٹاسکے ترغیب و تحریص کے تمام ہتھکنڈے اور فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی جس تحریک کی شدت کو کم نہ کر سکے دانشمندی یہی ہے کہ اس کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا جائے جمعہ کے روز کشمیر میں ہڑتال اورکرفیو کی جو کیفیت تھی مقام شکر کہ اس پر اس بار بھارتی پالیسی ساز اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی نہ کر سکے کشمیری عوام نے اپنے لیڈروں کی کال پر نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ کشمیری قائدین اپنے عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ تمام کشمیریوں کے دل کی آواز ہے نریندر مودی جموں وکشمیر کو ریل کے ذریعے بھارت کے ساتھ ملانے کے واجپائی کے خواب کو پورا کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں اس موقف کو بھی اپنے پیش نظر رکھناچاہیے جو کشمیر کے بارے میں انہوں نے پیش کیاتھا اور جس کی جانب حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم مودی کومتوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ واجپائی نے کہاتھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ان کی دلی تمناہے ماضی میں وزیراعظم نوازشریف کی دعوت پر جس کے ذریعے واہگہ سے لاہور تک ان کا سفر اور لاہور میں مینار پاکستان پر انہوں نے جو کچھ کہا وہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ وہ واقعی مسئلہ کشمیر کے حل کرنے اورپاکستان کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات کے خواہاں تھے بھارتی وزیراعظم نریندی مودی کی حکومت نے جس مثبت انداز فکر سے اٹھان کی ہے اس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور خطے میں پاکستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کے معاملے میں گزشتہ بھارتی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔