بدعنوانی،اختیارات کا بے جا استعمال اور سرکاری خرچ پر افطارپارٹیاں

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ کا یہ موقف قابل تحسین ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ وزارت اور اس سے متعلق ماتحت اداروں میں مالیاتی ضابطوں کو ان کی اصل روح کے مطابق نافذ کیاجائے گا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیاجائے گا وزارت میں اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مالی سال2014-15کا آغاز ہو رہاہے ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مالیاتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیاجائے ہمیں پیپرا رولز متوقع آڈٹ اعتراضات اور پی اے سی کی ہدایات اور تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی رقوم خرچ کرنی ہوں گی انہوں نے کہا کسی بھی مالی بے ضابطگی اور قومی خزانے میں خرد برد کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی انہوں نے سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی اور تمام ماتحت اداروں کے سربراہوں کو ہدایت کی کہ گزشتہ چھ ماہ کے عرصہ میں ہر گاڑی کے ماہانہ کی بنیاد پر اخراجات کی تفصیلات فراہم کی جائیں انہوں نے یہ ہدایت بھی کہ تمام اداروں کے سربراہان سرکاری دورہ سے قبل تحریری اجازت طلب کریں گے۔اپنی وزارت کی حد تک میاں ریاض حسین پیرزادہ کے اقدامات اور جذبات قابل تحسین ہیں اس ملک سے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی سختی سے روک تھام ہونی چاہیے لیکن تعجب کی بات ہے کہ ایک سال کے اقتدار کے دوران اگرچہ وفاقی حکومت نے انتظامی اخراجات میں کٹوتی سمیت معاشی اصلاحات کے بہت سے اقدامات کئے ہیں لیکن اس کی طرف سے دفتری نظام میں پائی جانے والی باقاعدگیوں اور سرکاری رقوم کے بے جا استعمال کو روکنے کے لئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے یہ درست ہے کہ محکمانہ آڈٹ کا نظام موجود ہے لیکن بدعنوانی اور اختیارات کے بے جا استعمال کے ماہر افسران بہت خوبصورتی سے آڈٹ نظام کو جل دے کر قانونی تقاضے پورے کرتے اوراپنے آپ کو قانونی کارروائی سے محفوظ کر لیتے ہیں بدعنوانی اور اختیارات کا بے جا استعمال ہمارے معاشرے اور دفتری نظام کا خاصا ہے اگر ہم اس کی روک تھام میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو بہت سے وسائل کو قومی مفاد میں استعمال کر سکتے ہیں تازہ ترین مثال وزیر مملکت پیر امین الحسنات کی سرکاری خرچ سے دی جانے والی افطار پارٹی ہے پنجاب حکومت نے تمام سرکاری افطار پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے مگر وفاقی حکومت فیصلوں میں تاخیر کی اپنی مخصوص روش کے باعث تاحال اس بارے میں فیصلہ نہ کرسکی چنانچہ ایک وزیر مملکت نے افطار پارٹی پر سرکاری وسائل کا بے دردی سے استعمال کیا جن وزراء کو افطار پارٹیوں کے اہتمام کا شوق ہے وہ اپنی جیب سے اس کا اہتمام کریں تاکہ متاثرین وزیرستان کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم ہوسکیں۔