Get Adobe Flash player

آرٹیکل 245کے نفاذ سے قبل تمام پہلوئوں پر تفصیلی غور کیا جائے

وفاقی حکومت نے موجودہ حالات سے نمٹنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج کو خصوصی اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے یہ اختیارات دینے کا فیصلہ ہوا ہے جس کے تحت میرانشاہ ' شمالی وزیرستان' قبائلی علاقوں اور ہوائی اڈوں پر آپریشنل فرائض کی ادائیگی میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لئے مسلح افواج کو تعینات کیا جائے گا تاہم فوج کی یہ تعیناتی با طلبی عمومی نوعیت کی نہیں ہے بلکہ مخصوص علاقوں یا مقامات پر سیکورٹی حالات کے تناظر میں ہوگی تاکہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے ضروری کارروائی کی جاسکے اس طرح  پاک فوج کو نہ صرف دہشت گردی کے خاتمہ اور سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے آئین کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہو جائیں گے بلکہ ان کے اقدامات کو آئینی و قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگا اطلاعات کے مطابق وزارت قانون اس معاملے میں جلد ہی باضابطہ طور پر حکم نامہ جاری کر دے گی سرکاری حلقوں کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے بعد ائیر پورٹس پر دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں اس امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ فوج کو خصوصی اختیارات دئیے جائیں شمالی وزیرستان کے آپریشن کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں ممکنہ ردعمل ہوسکتا ہے جس کے لئے حکومت ابھی سے حکمت عملی طے کر رہی ہے  ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لئے فوج کو اختیار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ فیصلہ بالخصوص کراچی' لاہور اور اسلام آباد میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ بعض قانونی حلقوں کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لئے پاک فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے جس علاقہ میں فوج آرٹیکل 245کے تحت طلب کی گئی ہوگی وہاں ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکے گی البتہ جس دن فوج طلب کی گئی ہوگی اس دن یا اس سے پہلے کے  زیر التواء معاملات پر ہائیکورٹ اپنے اختیارات کا استعمال کر سکے گی آئین کا آرٹیکل 245واضح طور پر کہتا ہے کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے تابع شہری مقام کی امداد میں جب ایسا کرنے کے لئے طلب کی جائیں  کام کریں گی جبکہ اسی آرٹیکل کی ایک شق کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے جاری شدہ کی ہدایت کے جواز کو کسی عدالت میں زیر اعتراض نہیں لایا جائے گا ایک اور شق میں کہا گیا ہے کہ کوئی عدالت عالیہ کسی ایسے علاقے میں جس میں پاکستان کی مسلح افواج شہری حکام کی مدد کے لئے کام کر رہی ہوں آرٹیکل 199کے تحت کوئی اختیار سماعت استعمال نہیں کر سکے گی مگر شرط یہ ہے کہ اس شق کا اس دن سے عین  قبل جس پر مسلح افواج نے شہری حکام کی مدد کے لئے کام کرنا شروع کیا ہو کسی زیر سماعت کارروائی سے متعلق عدالت عالیہ کے اختیار سماعت کو متاثر کرنا مقصود نہ ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ کے اس ماحول میں آپریشن سے ممکنہ ردعمل سے بچائو کے سلسلے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لئے فوج کی طلبی ناگزیر ہے تاہم حکومت مخالف ایک قانونی حلقے کی یہ رائے بھی ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آئینی جواز بھی ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس نے کس آرٹیکل کے تحت شمالی وزیرستان میں فوج کو ماضی میں استعمال کیا  اور اب بھی اس کے ذریعے آپریشن کو وسعت دے رہی ہے۔بعض قانونی حلقوں کی اس رائے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آرٹیکل 245کا نفاذ ہائیکورٹ کے اختیار سماعت کو متعلقہ علاقے میں مکمل طور پر ختم نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ 1977میں جب یہ معاملہ پنجاب ہائیکورٹ کے سامنے آیا تھا تو عدالت عالیہ نے آرٹیکل245کے نفاذ کے بعد آرٹیکل 199کے عدالتی اختیارات سلب کئے جانے کے خلاف فیصلہ دیا تھا' آرٹیکل 199بھی عدالت عدلیہ کے اختیارات کی کمی مکمل معطلی کی نفی کرتا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی عدالت عالیہ کو اطمینان ہو  کہ قانون میں کسی اور مناسب چارہ جوئی کا انتظام نہیں ہے تو وہ دستور کے تابع کسی عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں وفاق' کسی صوبے یا کسی مقامی ہیئت مجاز کے امور کے سلسلے میں  فرائض انجام دینے والے کسی شخص کو ہدایت دے سکے گی کہ وہ کوئی ایسا کام کرنے سے اجتناب کرے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا یا وہ ایسا کام کرے جو قانون کی رو سے اس پر واجب ہے عدالت عالیہ یہ اعلان بھی کر سکے گی فرائض انجام دینے والے کسی شخص کی طرف سے کوئی کارروائی قانونی اختیار کے بغیر کی گئی ہے اور  کوئی قانونی اثر نہیں رکھتی' اسی طرح آرٹیکل 199کی بعض دوسری شقوں میں بھی یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ 245کے تحت طلب کی جانے والی فوج کے معاملات کی مانیٹرنگ کی جائے اور اس کے کسی ایکشن کو قانون کے مطابق یا منافی قرار دیا جائے اس صورتحال میں اس امر کے خدشات موجود ہیں کہ آرٹیکل 245کے نفاذ کے بعد بعض دیگر مسائل سر اٹھا سکتے ہیں چنانچہ حکومت کو مذکورہ آرٹیکل کے نفاذ سے قبل ممکنہ قانونی ردعمل سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے بھی حکمت عملی دفعہ کرنی ہوگی اور تمام غور و غوض کے بعد آرٹیکل 245کے نفاذ کا حکمنامہ جاری کرنا ہوگا۔