Get Adobe Flash player

سندھ میں آئی جی پولیس کی تقرریوفاقی حکومت فراخدلی کا مظاہرہ کرے

سندھ میں نئے انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی نے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان ایک تنازعہ کی صورت اختیار کرلی ہے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وفاق سندھ پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے ہم آئی جی سندھ کے سلسلے میں وفاق کی  طرف سے بھیجے گئے تینوں  نام تسلیم نہیں کرتے پنجاب میں اگر آئی جی ایک گھنٹے میں لگتا ہے تو سندھ میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا جس طرح پنجاب میں آئی جی وہاں کی حکومت کے ایماء پر لگایا جاتا ہے اسی طرح اپنی مرضی کا آئی جی لانا ہمارا بھی حق ہے' دونوں حکومتوں کے درمیان اس تنازعہ کا آغاز اس وقت ہوا جب وزیراعظم کی منظوری سے اقبال محمود جنہیں سندھ کا آئی جی لگایا گیا تھا' دو ماہ تک خدمات سرانجام دینے کے بعد سندھ حکومت نے انہیں واپس بھیج دیا اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ سندھ پولیس کے ایک سینئر افسر فیاضی لغاری کو آئی جی لگانا چاہتی ہے گزشتہ جمعہ کے روز وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ حکومت کو قانون کے مطابق تین افسروں کا پینل ارسال کیا ہے جن میں ایڈیشنل آئی جی رفیق حسن بٹ' سابق آئی جی پنجاب خان بیگ اور بلوچستان پولیس کے سینئر افسر کیپٹن (ریٹائرڈ) میر زبیر شامل ہیں اگر سندھ حکومت نے اس فہرست میں سے بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کیا تو حکومتی سطح پر رسمی کارروائی سے ہٹ کر کسی ایک نام پر اتفاق کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ درست ہے کہ صوبوں میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تعیناتی مرکز کی طرف سے صوبوں کو فراہم کی جانے والی فہرستوں کی روشنی میں ہوتی ہے  مگر یہ معاملہ ایسا نہیں کہ اسے طول دے کر وفاق اور متعلقہ صوبے کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کی جائے کراچی میں اس وقت رینجرز اور پولیس مل کر دہشت گردی سمیت سنگین  جرائم کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں اس لئے اس مرحلے پر وفاقی حکومت کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے سندھ حکومت کی خواہشات کو پیش نظر رکھنا چاہیے وہی  آئی جی پولیس بہتر نتائج دے سکتا ہے جو اعلیٰ ساکھ' صلاحیت اور تجربے کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت سے ہم آہنگی بھی رکھتا ہو۔ آئی جی اقبال محمود کو اسی لئے دو ماہ کے بعد واپس بھیج دیا گیا کہ صوبائی حکومت سے ان کی کسی نوعیت کی ہم آہنگی نہ تھی جس صوبے نے جس افسر سے نتائج حاصل کرنے میں اس کی پسند اور ترجیح کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ہماری دانست میں صوبوں کے اندر افسروں کی تعیناتی کا معاملہ ایسا نہیں کہ اسے کشیدگی کی وجہ بنا کر مرکز اور صوبوں کے درمیان تعلقات خراب کئے جائیں' وفاقی حکومت کو فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبوں کی خواہشات اور ترجیحات کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات کار کو خوشگوار اور بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔