Get Adobe Flash player

قائد تحریک کا خطاب اور ان کے تضادات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ آج پوری قوم اور مسلح افواج ایک صفحے پر ہیں ملک میں جلد انقلاب آنے والا ہے دہشت گردوں کے بعد بدعنوان سیاستدانوں کا صفایا ہوگا ملک کو لوٹنے والوں کو وہیں بھیج دیں گے جہاں انہوں نے لوٹی ہوئی دولت چھپا رکھی ہے ڈنڈے اور کلاشنکوف کے زور پر خود ساختہ شریعت نافذ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اپنے ویڈیو خطاب میں الطاف حسین نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ اوردہشت گردوں کے خلاف ہے دہشت گردوں کو موقع دیاگیا کہ وہ آئین وقانون کی پاسداری کریں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا جبکہ فوج نے بہت صبر کیا اب پہلے ملک سے دہشت گردوں کا صفایا ہوگا اس کے بعد جاگیرداروں وڈیروں چور چکوں اور کرپٹ سیاستدانوں کی باز پرس کا کام ہوگا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق احتساب کا مرحلہ شروع ہوگا پھر غریب متوسط ایماندار اورنیک لوگوں کا اقتدار آئے گا جہاں رشوت اور کمیشن لینا بھی حرام ہوگا جہاں بنکوں سے اربوں قرضے لے کر معاف کروانا بھی حرام ہوگا جن لوگوں نے ملک کی دولت لوٹی اور بیرون ملک منتقل کر دی ہماری یہی کوشش ہوگی کہ عالمی قوانین کے تحت ان کی دولت واپس لائی جائے لٹیروں کو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے انہی ملکوں میںبھیج دیاجائے جہاں ان کا کالا دھن ہے اور پاکستان میں موجود ان کی املاک کو سرکاری تحویل میں لے کر ان پر تعلیمی ادارے اور اسپتال قائم کر دیئے جائیں۔ایم کیو ایم نے پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جلسہ عام کا انعقاد کر کے بلاشبہ ایک اچھی روایت کا آغاز کیاہے مناسب یہی تھا کہ اس جلسے کی آڑ میں سیاست نہ کی جاتی اور الطاف حسین کا تمام تر خطاب دہشت گردی کے باعث قومی سلامتی اور ملک وقوم کو پہنچنے والے نقصانات اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج اور قوم کی قربانیوں اور کامیابیوں تک محدود رہتا مگر اس بنیادی موضوع سے ہٹ کر انہوں نے جو گفتگو کی وہ بذات خود ان کے فکری ونظری اور عملی تضادات کو ظاہر کرتی ہے یہ درست ہے کہ دہشت گردی ہی کی طرح کرپشن بھی ایک ایسی لعنت ہے جس نے ہمارے معاشرے اور خوشحالی کو بہت نقصان پہنچایاہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کے بعد بدعنوان سیاستدانوں کا صفایا ہوگا کیا موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ نیک کام سر انجام دیں گی یا کوئی اور آکر یہ فریضہ پورا کرے گا؟ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ابھی تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے دائرہ کارواختیار کے تحت ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے سلسلے میں کوئی عزم ظاہر کیا نہ کسی قسم کا لائحہ عمل مرتب کیاہے اس لئے سیاستدانوں کو پرجوش خطابت اور لفاظی کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرناچاہیے اور قوم کے سامنے تمام حقائق رکھنے چاہیں الطاف حسین کہتے ہیں کہ وہ ملک لوٹنے والوں کو وہیں بھیج دیں گے جہاں انہوں نے لوٹی ہوئی دولت چھپا رکھی ہے جس پارٹی کے ساتھ ایم کیو ایم سندھ میں شریک اقتدار ہے دنیا جانتی ہے کہ اس کے بنک کھاتے سوئٹزرلینڈ میں اور سرے محل سمیت متعدد املاک برطانیہ میں ہیں اور اس کے لیڈروں نے اس کا اعتراف بھی کیاہے اس پس منظر میں قائد تحریک کے اس موقف پر کوئی کیسے یقین کرسکتاہے کہ وہ ملک سے باہر منتقل کی جانے والی دولت ملک میں واپس لانے کے حق میں ہیں اگر وہ اپنے موقف میں سچے ہوتے تو ان کے ساتھ ہرگز شریک اقتدار نہ ہوتے جنھوں نے ماضی میں قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی اس سے ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے تضادات واضح ہوتے ہیں اور یہی معلوم ہوتاہے کہ محض عوام کو جوشیلے نعروں اور بے معنی باتوں سے بہلانے ورغلانے اور گمراہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں بلاشبہ وہ لوگ قوم کے مجرم ہیں جنھوں نے قوم کی دولت بیرون ملک منتقل کی اور ملک سے باہر ناجائز ذرائع سے اثاثے بنائے لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس حوالے سے قائد تحریک سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے لندن پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور وہ خود ضمانت پر ہیں دیگر سیاستدانوں کی بیرون ملک منتقل کی جانے والی دولت کا ذکر کرتے ہوئے کاش وہ اپنے خطاب میں قوم کے سامنے اپنی پوزیشن بھی واضح کر دیتے کہ ان سے جو لاکھوں پائونڈ برآمد کئے گئے ان کی اصلیت کیا تھی اور برطانیہ میں ان کے اثاثوں کی کیا نوعیت ہے اور یہ کیسے بنائے گئے؟ہمارے ہاں اگرچہ بعض ادوار میں رشوت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوششوں کے دعوے تو کئے گئے مگر یہ کوششیں محض رسمی نوعیت کی تھیں دیانتداری اور سنجیدگی پر مبنی نہ تھیں وجہ یہ تھی کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں احتساب وہی حکومت کر سکتی ہے جس کے اپنے ہاتھ صاف ہوں۔