Get Adobe Flash player

عمران خان کی طرف سے استعفوں کے اعلان پر پارٹی ارکان کا شدید ردعمل

تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر اسمبلیوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے اعلان پر پارٹی کے اندر شدید ردعمل ہوا ہے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی کا کہناہے کہ ان کے صوبہ میں عام انتخابات کے دوران دھاندلی نہیں ہوئی اس لئے ان کے ارکان اسمبلی کے استعفے کا کوئی جواز نہیں ہے استعفوں کے معاملے پر پارٹی کے اندر شدید ردعمل نے پارٹی قیادت کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں اس بناء پر بعض ارکان اسمبلی کو یہ توقع ہے کہ پارٹی کے چیئرمین جلد ہی استعفوں کے حوالے سے بہاولپور کے جلسہ عام میں کئے جانے والے اپنے اعلان کو واپس لے لیں گے۔یہ منطق بہت خوب ہے کہ چونکہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگئی ہے اس لئے یہاں دھاندلی نہیں ہوئی اور چونکہ مرکز وپنجاب میں اس کی حکومت قائم نہیں ہوسکی اس لئے یہاں اسے بقول اس کے دھاندلی سے ہرایاگیاہے لیکن قوم کو یہ بھی خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی صورتحال کیاہے ان صوبوں میں تو صوبے اور ضلع کی سطح پر اس کا تنظیمی ڈھانچہ تک موجود نہیں ہے تعجب کی بات ہے کہ جس پارٹی کا ملک گیر سطح پر کوئی تشخص اور تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے وہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ اسے دانستہ شکست دے کر اقتدار سے محروم کیاگیاہے تحریک انصاف کے چیئرمین کو سیاست میں آئے روز کے یوٹرن اور دوسروں پر الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر پارٹی کی چاروں صوبوں میں تنظیم سازی کرنی چاہیے انہیں کم از کم چاروں صوبوں میں پارٹی کا وجود تو قائم کرناچاہیے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ پارٹی کا منشور کیاہے اس کے بعد یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس حد تک مینڈیٹ سے نوازتے ہیں عمر ان خان دو عشروں سے سیاست کے میدان میں ہیں ان میں اب پختگی آجانی چاہیے وہ اگر جمہوریت پر کامل یقین رکھتے ہیں تو انہیں جمہوری اقدار اور رویوں پر بھی عمل کرناچاہیے جمہوریت تحمل برداشت اور شائستگی کے کلچر کا نام ہے اس میں پارٹی قائد کی آمریت کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے عمران خان کو پارٹی کے اندر آمرانہ فیصلوں کی روش ترک کرنی ہوگی اگر ارکان اسمبلی کے استعفوں سے متعلق اعلان سے قبل انہوں نے پارٹی کو اعتماد میں لیا ہوتا تو یوں وزیر اعلی پرویز خٹک اور بعض دیگر ارکان کا شدید ردعمل سامنے نہ آتا ان کا ردعمل یہ واضح کرتاہے کہ دیگر معاملوں کی طرح اس معاملے میں بھی انہوں نے اپنے ذاتی فیصلے کو پارٹی پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے جسے قبول کرنے سے انکار کیا جارہاہے بہتر یہی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے ارکان اسمبلی کے مستعفی ہونے سے متعلق فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کر دیں اور پارٹی پر انفرادی فیصلے مسلط کرنے سے گریز کریں۔