Get Adobe Flash player

حکومت کی مدت میں کمی اور چیف الیکشن کمشنر پر اپوزیشن کی تجاویز

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے قومی سیاست کے موجودہ ماحول کے پیش نظربعض قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کی شرائط تبدیل ہونی چاہیں ریٹائرڈ جج کے علاوہ سینئر بیورو کریٹس اور وکلاء کو بھی اس منصب پر تعیناتی کا موقع ملناچاہیے ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو بااختیار ہوناچاہیے اس وقت چیف الیکشن کمشنر کا کردار صرف ایک ممبر جتناہے اس کی تعیناتی کے لئے صرف جج ہونے کی پابندی کے باعث آپشنز محدود ہیںموزوں جج نہ مل سکے تو چیف الیکشن کمشنر کہاں سے لایاجائے گاپارلیمنٹ کی مدت میں کمی بیشی کا معاملہ بھی ہمارے ہاں مختلف ادوار میں زیر بحث رہاہے بعض حلقوں کے مطابق اس کی آئینی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کی جانی چاہیے قائد حزب اختلاف نے بھی اس رائے کا اظہار کیاہے کہ پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال کے بجائے چار سال ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا مینڈیٹ پانچ سال کا ہے اس لئے موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے اس کے بعد آنے والی حکومت کی مدت چارسال کی جاسکتی ہے خورشید شاہ کے بقول ایسا کرنے سے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں گے جب جمہوریت مستحکم ہوجائے تو حکومت کی مدت دوبارہ پانچ سال کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو انہوں نے کہا کہ ہم نے آئینی ترامیم سوچ سمجھ کر تجویز کی ہیں سیاسی جماعتوں کو بھی ان پر غور کرنا اور مل کر لائحہ عمل بناناچاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم بنایاجاسکے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ وہ اپنی تجاویز باضابطہ طور پر وزیراعظم کو بھی ارسال کریں گے خورشید شاہ کا پارلیمنٹ کی آئینی مدت کم کرنے کے سلسلے میں سب سے بڑا استدلال یہ ہے کہ اس سے جمہوریت کو فائدہ ہوگا وہ عناصر جو بے صبرے ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے اور منفی حربے اختیارکرتے ہیں انہیں سازش کرنے کا موقع نہیں ملے گا قائد حزب اختلاف کی طرف سے پیش کی جانے والی مذکورہ دونوں تجاویز بے حد اہمیت کی حامل ہیں موجودہ قانون کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کو ہی تعینات کیاجاسکتاہے آئین کے تحت اس تقرری کے سلسلے میں وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف دونوں کا کسی ایک شخصیت پر اتفاق رائے لازمی ہے لیکن قائد حزب اختلاف نے بجاطور پر کہا کہ ججز کے معاملے میں آپشنز بہت محدود ہیں اعلی کردار کی حامل بیورو کریسی سے وابستہ کسی شخصیت یا سینئر وکلاء میں سے بھی چیف الیکشن کمشنر کے منصب کے لئے تعیناتی کی جانی چاہیے اس طرح جہاں زیادہ آپشنز دستیاب ہوں گے وہاں دوسرے شعبوں کی ممتاز شخصیات کو بھی چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جاسکے گا محض عدلیہ کے شعبہ سے وابستہ کسی شخصیت کو ہی اس منصب پر مقرر کرنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے اس لئے یہ لازمی ہے کہ عدلیہ کے علاوہ بیورو کریسی اور وکلاء کے شعبوں کو بھی چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے میں شامل کیاجائیجہاں تک پارلیمنٹ کی مدت میں کمی کر کے چار سال کرنے کا معاملہ ہے ہمارے نزدیک یہ کوئی نئی بات نہیں امریکہ سمیت بہت سے ملکوں میں حکومت کی آئینی مدت چار سال ہے اس لئے پاکستان میں بھی یہ مدت کم کر کے چار سال کی جاسکتی ہے خورشید شاہ کی یہ دلیل بے حد اہم اور وزنی ہے کہ اس طرح بعض عناصر جو بے صبرے ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور منفی حربوں کے بارے میں سوچتے ہیں انہیں سازش کرنے کے مواقع نہیں ملیں گے اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کیا جاسکے گا پاکستان کے تناظر میں جہاں آمریت کے پرور دہ سیاسی عناصر کی کمی نہیں جنھوں نے عوام کے مینڈیٹ کے بجائے ہمیشہ آمریت کے سہارے تلاش کئے ہیں پارلیمنٹ کی مدت چار سال کرنے کے نتیجے میں جمہوریت کے ڈی ریل ہونے کے خدشات بڑی حد تک ختم ہوسکتے ہیں قائد حزب اختلاف کو اپنی پہلی فرست میں دونوں تجاویز وزیراعظم کو پیش کرنی چاہیں تاکہ انہیں آئینی ترامیم کا حصہ بنانے کے سلسلے میں دیگر پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے عمل کو آگے بڑھایاجاسکے ہمارے رائے میں مذکورہ تجاویز پرمشتمل ترامیم کو آئین کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں پر یہ پابندی بھی عائدکی جانی چاہیے کہ وہ غیر آئینی طریقے سے حکومت تبدیل کرنے اور جلسوں جلوسوں کے ذریعے حکومت کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کی کوششوں سے گریز کریں گی جمہوریت کا استحکام تمام سیاسی جماعتوں کا اولین اور اعلی مقصد ہوناچاہیے اور ان کے طرزعمل سے بھی یہی واضح ہوناچاہیے۔