Get Adobe Flash player

تمام جمہوریت پسند قوتیں انتشار کی سیاست کے خلاف متحد ہوجائیں

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ کچھ عرصہ سے جس قسم کا انداز سیاست اختیار کر رکھاہے اسے کسی صورت جمہوری اقدار سے ہم آہنگ قرار نہیں دیاجاسکتا وہ جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں اور جس طرزعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کا مقصد محض یہی ہے کہ کسی طرح موجودہ منتخب حکومت کو آئینی مدت پوری نہ کرنے دی جائے اور اسے وقت سے پہلے ختم کر دیاجائے چاہے اس کے نتیجے میں ملک اور جمہوریت کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے لاہور میں گزشتہ روز لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ دس لاکھ افراد لے کر اسلام آباد جائیں گے اور الیکشن سسٹم تبدیل کروا کر نیا پاکستان بنائیں گے انہوں نے دعوی کیا کہ یہ تحریک انصاف کی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کے لئے سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرناہوگا اب حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اسلام آباد کے ڈی چوک میں اتنا بڑا اعلان کریں گے کہ ہر شے بدل جائے گی انہوں نے الزام عائد کیا کہ11مئی کے الیکشن میں خواجہ شریف اور خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل بنا ہوا تھا جسے ایک میڈیا گروپ نے کور دیا انہوں نے کہا کہ اگر 14اگست کو اسلام آباد میں فوج طلب کی گئی تو یہ سول حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہوگی فوج یا حکومت جو مرضی سوچے یا جو چاہے کرے ہم ہر صورت میں منزل مقصود پر پہنچیں گے۔ان کی محولہ گفتگو سے یہی واضح ہوتاہے کہ وہ پاکستان کے انتخابی سسٹم میں تبدیلی کے خواہاں ہیں سوال یہ ہے کہ کیا اس سسٹم میں تبدیلی کسی مظاہرے یا لانگ مارچ کے ذریعے ممکن ہے؟ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ محض تحریک انصاف کا مسئلہ ہے یا ملک کی بعض دیگر جماعتیں بھی انتخابی نظام میں تبدیلی کی خواہاں ہیں تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے معروضی حقائق یہی ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی سمیت متعدد جماعتیں انتخابی نظام میں ردوبدل کی خواہاں ہیںاس ضمن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما خورشید شاہ نے تو گزشتہ روز یہ تجویز بھی دی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لئے محض کسی جج کا ہونا درست نہیں ہے اس سے آپشنز محدود ہوجاتے ہیں اس لئے بیورو کریسی کی شخصیات اور وکلاء برادری میں سے بھی چیف الیشن کمشنر لیاجاناچاہیے اس طرح کی بعض دیگر تجاویز بھی سامنے آسکتی ہیں ان تجاویز کی روشنی میں قومی اسمبلی اور سینٹ کی پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی ہی انتخابی نظام میں ردوبدل کے لئے آئینی ترامیم کو حتمی شکل دے کر دونوں ایوانوں سے اس کی منظوری حاصل کرسکتی ہے انتخابی سسٹم میں تبدیلی کا تعلق آئینی ترمیم سے ہے یہ مقصد کسی مظاہرے کے ذریعے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے پارلیمانی جماعتوںکے درمیان مشاورت ضروری ہے اس حوالے سے عمران خان اپنے لانگ مارچ کا جو بھی جواز فراہم کر رہے ہیں اس میں کوئی وزن نہیں دراصل ان کے عزائم کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں وہ ملک میں سیاسی اور جمہوری عدم استحکام کے خواہاں ہیں اور محض ان ہی کی جماعت نے نہ صرف جلسوں اور مظاہروں کی سیاست شروع کر رکھی ہے بلکہ اس کے لیڈروں کے حکومت مخالف تلخ ترش بیانات نے سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا کر دی ہے ان کا یہ موقف بھی انتشار کے ان کے عزائم کو آشکار کرتاہے جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں آرٹیکل245کے تحت پاک فوج کی تعیناتی بھی ہوئی تو وہ اسے خاطر میں نہیں لائیں گے اور بہر صورت اپنی منزل تک پہنچیں گے۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے ملک میں جس افراتفری اور انتشار پیدکرنے کا کوئی بھی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے مسلم لیگ ن11مئی2013کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ شفاف انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی ہے جو مرکز اور صوبوں میں غیر جانبدار نگران حکومتوں کی موجودگی اور ایک خود مختار الیکشن کمیشن کے ذریعے منعقد کئے گئے جبکہ عالمی برادری کے ہزاروں مبصرین اور ملک کے آزاد میڈیا نے انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کی اس سارے معاملے میں مسلم لیگ ن کا کیا قصور ہے ہاں البتہ اس کا یہ قصور ہے کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے اسے اقتدار کا مینڈیٹ دیاہے اس کے ووٹ بنک کی ایک وجہ گزشتہ دور کے اندر پنجاب میں اس کی صوبائی حکومت کی بہتر کارکردگی بھی ہے اگر الیکشن کے دوران کہیں کسی حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے تو اس میں مسلم لیگ ن کا کیا قصور ہے جو اس وقت حکومت میں ہی نہ تھی یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ پنجاب کے نگران وزیر اعلی کی حیثیت سے نجم سیٹھی کا نام پیپلز پارٹی کی طرف سے تجویز کیاگیاتھا دھاندلی کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ کے فورم موجود ہیں مگر ان فورم سے رجوع کرنے کے بجائے سیاسی اور جمہوری عدم استحکام کے مقاصد کو پیش نظر رکھا جارہاہے ملک کی تمام جمہوریت پسند قوتوں کو ایک سیاسی جماعت کی اس منفی روش کا سختی سے نوٹس لیناچاہیے اور جمہوریت کے خلاف کسی بھی سطح پر سازش کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہوکر اپنا کردار اداکرناچاہیے۔