سپریم کورٹ کی طرف سے کم قیمت پر خوراک کی فراہمی کا پروگرام شروع کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نادار افراد کے لئے فوڈ سیکورٹی کا موثر نظام قائم کرنے کے سلسلے میں وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دیتے ہوئے17جولائی سے پہلے کم قیمت پر خوراک کی فراہمی کا پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وفاق سندھ اور بلوچستان حکومت کی رپورٹوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کی کوششوں کو سراہا عدالت نے قرار دیا کہ اپنے شہریوں کو مناسب قیمت پر خوراک کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے حکومتیں ایسا کر کے عدالت پر احسان نہیں کریں گی۔ عدالت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی بھوک سے نہ مرے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اشیاء خوردونوش پر عمومی رعایت کے لئے127ارب روپے مختص کئے ہیں تاہم عدالت نے اعدادوشمار مسترد کر دیئے عتیق شاہ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ساڑھے آٹھ لاکھ نادار خاندانوں کے لئے ٹارگٹڈ سبسڈی پر کام شروع کیاہے ہر خاندان کو14کلو آٹا دس روپے فی کلو اور پانچ کلو گھی چالیس روپے فی کلو کے حساب سے ملے گاہر خاندان کو دو دو وائوچر دیئے جائیں گے جو ناقابل انتقال ہوں گے ان کے ذریعے وہ یوٹلیٹی سٹورز سے متعلقہ اشیاء اعلان کردہ نرخوں پر حاصل کر سکے گا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں17جولائی سے پہلے کم قیمت پر خوراک کی فراہمی کا پروگرام شروع کرناہوگا اب تک اس سلسلے میں حکومتوں کی جو بھی حکمت عملی رہی ہے اس کے مثبت نتائج غریب عوام تک نہیں پہنچ سکے کسی بھی حکومت کی طرف سے یہ دعوی کیاجاتاہے کہ اس نے آٹے چینی اور گھی پر اتنے ارب کی سبسڈی دی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو مذکورہ اشیاء ارزاں نرخوں پر ملیں گی مگر اس دعوی اور اعلان کے نتیجے میں غریب عوام کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا وہ سبسڈی کہاں جاتی ہے کون اس سے مستفید ہوتاہے صحیح معنوں میں دی بھی جاتی ہے یا نہیں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتاغریب عوام تک ریلیف اسی طرح پہنچ سکتاہے کہ انہیں انتہائی سستے نرخوںپر آٹا گھی اور چینی فراہم کی جائے اور اس کے لئے انہیں وائوچر دیئے جائیں جن سے متعلقہ فرد کے علاوہ کوئی دوسرا استفادہ نہ کرسکے ہم سمجھتے ہیں اس معاملے میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے درست حکمت عملی اختیار کی ہے تاہم اس امر کو بھی یقینی بنایا جاناچاہیے کہ کم خوراک کی فراہمی کے اس نظام سے مستحق افراد ہی مستفید ہوسکیں اور اس کے وائوچر سیاسی بنیادوں پر اپنے کارکنوں اور حواریوں میں تقسیم نہ ہوسکیں ہم سمجھتے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نتیجے میں مستحق افراد کی ایک بھرپور فہرست مکمل کی گئی ہے جس میں شامل افراد نقد امداد سے مستفید ہورہے ہیں انہی افراد کو سستے نرخوں پر آٹا گھی اور چینی کے وائوچر بھی دیئے جاسکتے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی مشاورت سے اس عمل کو یقینی بناسکتی ہیں بہرصورت غریبوں کو کم نرخوں پر خوراک کی فراہمی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر سختی سے عمل ہوناچاہیے اگر حکومتیں اپنے طور پر اپنی ذمے داریوں کا احساس کرتیں تو یہ معاملہ اعلی عدلیہ تک نہ پہنچتا مگر اب انہیں اپنی غفلت چھوڑ کر اپنی ذمے داریوں کی جانب آنا ہوگا۔