Get Adobe Flash player

کونسل فار فارن پالیسی کا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے روڈ میپ

ایک عالمی تنظیم کونسل فار فارن پالیسی نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے باضابطہ طورپر ایک روڈ میپ تشکیل دیاہے اس روڈ میپ کے مطابق لائن آف کنٹرول کے آرپار ایک ساتھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کرواکر مشترکہ طور پر ایک ہی اسمبلی تشکیل دے کر بھارت اور پاکستان کی نگرانی میں تمام اختیارات کشمیریوں کو سونپ دیئے جائیں بعض اطلاعات میں بتایاگیاہے کہ مذکورہ تنظیم کی طرف سے یہ روڈ میپ جلد ہی پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کو پیش کر دیاجائے گا مذکورہ تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر وی پی ویدک نے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیاہے کہ کونسل گزشتہ کئی برسوں سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے سرگرم عمل ہے اور اس سلسلے میں اس نے ایک روڈ میپ تشکیل دیاہے انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اب تک کئی بھارتی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں ان کا موقف تھا کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف بیک وقت انتخابات کروا کر مشترکہ ریاستی اسمبلی تشکیل دینا روڈ میپ کا اہم اور کلیدی حصہ ہے مسئلہ کے حل کے لئے گورنر کو صدر ریاست اور وزیر اعلی کو وزیراعظم کہنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تمام اختیارات کشمیریوں کو سونپ دینے کی بات بھی اہم ہے البتہ حکومت کا کنٹرول مشترکہ طور پر بھارت اور پاکستان کے پاس رہے گا انہوں نے کہا کہ روڈمیپ میں ایسے کشمیر کی سفارش کی گئی ہے جہاں ہر طرف کشمیریوں کا راج ہو جس طرح کسی ملک میں مختلف صوبے اس ملک کے کنٹرول میں الگ الگ رہتے ہیں اسی طرح کشمیر کو بھی الگ مانا جائے گا تاہم یہاں کنٹرول صرف بھارت کا نہیں بلکہ مشترکہ طور پر دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان کے پاس ہوگا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلے میں فار فارن پالیسی کا روڈ میپ یقیناً ایک بنیاد کی حیثیت رکھتاہے تاہم روڈ میپ کے جو خدوخال میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں اس میں بہت سے معاملات کا تذکرہ نہیں ہے مثلاً مشترکہ اسمبلی قائم ہونے کے بعد ریاست کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کی تقسیم کنٹرول لائن کے دونوں طرف کیسے ہوگی؟کابینہ کی تشکیل کس فارمولے کے تحت ہوگی؟کنٹرول لائن کے دونوں طرف موجود دونوں ملکوں کی فوجوں کی پوزیشن کیا ہوگی؟دونوں طرف موجود وسائل کی ملکیت اور محصولات کانظام کیا ہوگا؟پاکستان اور بھارت کی طرف سے مجوزہ کشمیری ریاست میں عدم مداخلت اور اس کی تعمیر وترقی میں ان کی معاونت کا طریقہ کار کیا ہوگا؟اس قسم کے بہت سے سوالات کا ذہنوں میں پیدا ہونا فطری سی بات ہے توقع کی جاسکتی ہے کہ روڈ میپ کے تفصیلی خدوخال میں مجوزہ کشمیری ریاست کی انتظامی مشینری سمیت تمام متعلقہ سوالوں کے جواب موجود ہوں گے۔پاکستان کے نزدیک مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کسی بھی فارمولے اور روڈ میپ پر بات چیت ہوسکتی ہے اور اسے دونوں ملکوں وکشمیریوں کے لئے قابل قبول بنایاجاسکتاہے لیکن بھارت کا معاملہ اس لئے مختلف ہے اس نے مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کو حل کرنے کی کبھی سنجیدگی سے کوئی کوشش نہیں کی اس کا عمومی رویہ یہ ہوتاہے کہ تنازعہ کشمیر کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے اور کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے تاہم جب عالمی برادری اقوام متحدہ کی قرار دادوں یامقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث کبھی کبھار اس امر پر زور دیتی ہے کہ اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کیاجائے تاکہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہو بلکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جاسکے تو بھارت مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دیتاہے لیکن اس آمادگی کا مطلب محض عالمی برادری کا منہ بند کرنا ہوتاہے مسئلہ کو حل کرنا نہیں ہوتا ماضی کا ریکارڈ اس امر کا شاہد ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے کتنے ہی دور ہوئے لیکن ان میں مسئلہ کے حل کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نہ ہوسکی بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کو محض تاخیری حربوں کے طور پر استعمال کیا یا کسی نہ کسی بہانے اور جواز کے تحت انہیں معطل کر دیا ممبئی دھماکوں کے بعداس نے مذاکرات کا جو سلسلہ معطل کیا وہ ابھی تک بحال نہیں ہوسکااب اس کی بحالی کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں اس پس منظر میں ہم سمجھتے ہیں بھارت کا مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کسی روڈ میپ کو قبول کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا مشترکہ ریاستی اسمبلی اور کشمیریوں کی مشترکہ حکومت کے فارمولے کو مزید آگے بڑھایاجاسکتاہے تاہم اس کے لئے بھارت سرکار کی نیک نیتی درکار ہے پاکستان بھارت اور کشمیریوں کو یہ حقیقت بہرصورت تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی قرار دادوں یا انفرادی خواہشات سے ہٹ کر سب کے لئے ایک قابل قبول فارمولے کی روشنی میں بھی اس دیرینہ تنازعہ کو حل کیاجاسکتاہے۔