Get Adobe Flash player

سابق وزیراعظم کا انکشاف اور پرویز مشرف کے لئے محفوظ راستہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اورسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیاہے کہ جنرل(ر)پرویز مشرف کے استعفے کے بعد ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا اسٹیبلشمنٹ سے معاہدہ ہواتھا یہ معاہدہ اسٹیبلشمنٹ اورسول حکومت کے درمیان ہوا تھا جس میں طے پایاتھا کہ استعفے کے بعد پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دیاجائے گا انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں پرویز مشرف کے حق نہیں تاہم یہ چاہتا ہوں کہ جو وعدہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے کیا تھا اس کی پاسداری کے جائے اس معاہدے کا مسلم لیگ ن کو بھی علم تھا نوازشریف کو بھی اس بارے میں اعتماد میں لیا گیاتھا اس لئے انہیں بھی اس معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے یوسف رضاگیلانی نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے وقت کا تعین خود کرنا چاہتے تھے جب میں نے آپریشن کی بات کی تو ان کا موقف تھا کہ یہ ہمارے اوپر چھوڑ دیاجائے کہ ہم کس وقت آپریشن کرتے ہیں سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا ایک فوجی صدر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر مستعفی نہیں ہوسکتا جب اسٹیبلشمنٹ نے یہ حمایت فراہم کی تو اس نے بھی آپ سے وعدے لئے ہوں گے کہ آپ آگے چل کر انہیں تنگ نہیں کریں گے تاہم اس سلسلے میں موجودہ حکومت کا کردار درست نہیں ہے یوسف رضاگیلانی کے مطابق آصف زرداری نوازشریف اور تمام سیاسی قوتوں نے پرویز مشرف کے مواخذے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات ہوئے مذاکرات کے بعد یہ طے ہواتھا کہ اگر جنرل پرویز مشرف مستعفی ہوجاتے ہیں تو انہیں باوقار اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا ادھر مسلم لیگ ن کے بعض وزراء نے مذکورہ معاہدہ سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے سابق وزیراعظم کا محولہ انکشاف موجودہ حکومت کے بعض وزراء کے درمیان پرویز مشرف کے معاملے میں اختلاف رائے کا پس منظر بھی واضح کرتاہے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی سمیت بعض وزراء اگر پرویز مشرف کے معاملے میں ایک مخصوص موقف رکھتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہی معاہدہ ہے جس کی طرف سابق وزیراعظم نے اشارہ کیاہے ان کا موقف یہی ہے کہ ماضی کے اس معاہدے کی پاسداری ہونی چاہیے اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کے ذریعے ایک نیا پنڈوراباکس نہ کھولاجائے یہ اصولی بات ہے کہ کوئی فوجی صدر جب اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتاہے تو اس سلسلے میں اپنے حلقے سے مشاورت کرتاہے مشاورت کے اس عمل میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ استعفے کے بعد قائم ہونے والی کوئی حکومت اس کے مواخذے سے گریز کرے اور اسے واپسی کا باوقار راستہ فراہم کیاجائے چونکہ جنرل پرویز مشرف کے استعفے کا عمل پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں روبہ عمل لایاگیا اس لئے فطری طورپر اسٹیبلشمنٹ کو پیپلزپارٹی کی حکومت سے یہ یقین دہانی حاصل کرنی تھی کہ استعفے کے بعد انہیں واپسی کا باوقار راستہ فراہم کیاجائے اور مواخذہ نہ کیاجائے مسلم لیگ ن جو اوائل میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں شامل تھی چند ماہ کے بعد حکومت سے الگ ہوگئی مگر حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت کی حیثیت سے اسے بھی اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت کے درمیان پرویز مشرف کے حوالے سے معاہدے میں شامل کیاگیا چنانچہ ان حفاظتی پیش بندیوں کے بعد پرویزمشرف نے عہدے سے استعفے دے دیا بعض باخبر حلقوں کی رائے ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے لئے ان حالات میں جبکہ بہت سے حلقے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل6کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے اپنے آپ کو ان کے معاملات سے الگ تھلگ رکھنا یا اس کے برعکس آرٹیکل6کے تحت کارروائی نہ کرنے کا موقف اختیار کرنا ممکن نہ تھا چنانچہ وہ بھی مخصوص سیاسی جماعتوں اور وکلاء برادری کے اس ریلے میں بہہ گئے جو مشرف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہاتھا یہ ایک واضح بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد سے گریز معاہدے کی پاسداری نہ کرنے والوں کے لئے پریشانی اور مسائل کا باعث بن سکتاہے ہم سمجھتے ہیں یوسف رضاگیلانی کے انکشاف نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیاہے وہ پرویز مشرف کے معاملے میں پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں ہے نہ آگے بڑھنے کی ہمت رکھتی ہے پیچھے ہٹنے کی صورت میں اسے وکلاء برادری اور بعض مذہبی حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتاہے جبکہ آگے بڑھنے کی صورت میں اس کی اپنی سلامتی کو درپیش خطرات بڑھ جاتے ہیں ہماری دانست میں حکومت کو جمہوری اور سیاسی استحکام کے تناظر میں فیصلہ کرناچاہیے اور فیصلے سے پہلے پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کا عمل مکمل کرنا چاہیے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے بارے میں اسے یہ معذرت خواہانہ رویہ بھی ترک کر دیناچاہیے کہ یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنایاگیا ہے بلکہ اسے سیاسی جماعتوں کی مشاورت واضح موقف اختیار کرناچاہیے